فوجیوں کو رشوت دینے کا الزام، افغان تاجر کے خلاف مقدمہ

یہ مقدمہ 23 دسمبر کو شمالی کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیہ مقدمہ 23 دسمبر کو شمالی کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا تھا

امریکہ نے ایک افغان تاجر کے خلاف کئی لاکھ ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کو رشوت دینے کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

امریکی ایف بی آئی نے ایک انتظامی اور تعمیراتی کمپنی کے مالک حکمت اللہ شادمان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو امریکی فوجیوں کو 100 ڈالر کے نوٹوں کی کئی گڈیاں دیں تاکہ وہ فوجیوں کو ٹرانسپورٹ اور بھاری سامان فراہم کرنے کے بڑے ٹھیکے حاصل کر سکیں۔

یہ مقدمہ 23 دسمبر کو شمالی کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔

مدعی کا کہنا ہے کہ یہ رشوت سنہ 2009 میں اس وقت دی گئی جب یہ فوجی افغانستان میں تعینات تھے۔

اس معاملے پر ابھی تک حکمت اللہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا، بلکہ ان کے موجودہ ٹھکانے کا بھی کسی کو علم نہیں ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف کے حکام پہلے ہی حکمت اللہ شادمان کے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ امریکی فوجیوں کے لیے کام کرنے والے کسی افغان ٹھیکیدار کے اثاثے منجمد کیے گئے ہوں۔

اُس وقت قندہار کے ہوائی اڈے میں سامان کی درخواستیں بھیجنے پر مامور سٹاف سارجنٹ رابرٹ گرین اور ان کے سپروائزر ڈیوڈ کلائن کو پہلے ہی اس دھوکہ دہی میں شامل ہونے کے جرم میں سزا دی جا چکی ہے۔

حکمت اللہ شادمان کے خلاف درخواست میں کہا گیا ہے کہ رابرٹ گرین نے ان سے مختلف اوقات میں 30 سے 50 ہزار ڈالر وصول کیے جبکہ ڈیوڈ کلائن نے تقریباً 50 ہزار ڈالر وصول کیے۔

رابرٹ گرین کو دس ماہ قید کی سزا مل چکی ہے جبکہ ڈیود کلائن کی سزا اگلے ماہ تک تجویز کر دی جائے گی۔