فوجیوں کو رشوت دینے کا الزام، افغان تاجر کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ نے ایک افغان تاجر کے خلاف کئی لاکھ ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کو رشوت دینے کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
امریکی ایف بی آئی نے ایک انتظامی اور تعمیراتی کمپنی کے مالک حکمت اللہ شادمان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو امریکی فوجیوں کو 100 ڈالر کے نوٹوں کی کئی گڈیاں دیں تاکہ وہ فوجیوں کو ٹرانسپورٹ اور بھاری سامان فراہم کرنے کے بڑے ٹھیکے حاصل کر سکیں۔
یہ مقدمہ 23 دسمبر کو شمالی کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا ہے کہ یہ رشوت سنہ 2009 میں اس وقت دی گئی جب یہ فوجی افغانستان میں تعینات تھے۔
اس معاملے پر ابھی تک حکمت اللہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا، بلکہ ان کے موجودہ ٹھکانے کا بھی کسی کو علم نہیں ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کے حکام پہلے ہی حکمت اللہ شادمان کے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ امریکی فوجیوں کے لیے کام کرنے والے کسی افغان ٹھیکیدار کے اثاثے منجمد کیے گئے ہوں۔
اُس وقت قندہار کے ہوائی اڈے میں سامان کی درخواستیں بھیجنے پر مامور سٹاف سارجنٹ رابرٹ گرین اور ان کے سپروائزر ڈیوڈ کلائن کو پہلے ہی اس دھوکہ دہی میں شامل ہونے کے جرم میں سزا دی جا چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکمت اللہ شادمان کے خلاف درخواست میں کہا گیا ہے کہ رابرٹ گرین نے ان سے مختلف اوقات میں 30 سے 50 ہزار ڈالر وصول کیے جبکہ ڈیوڈ کلائن نے تقریباً 50 ہزار ڈالر وصول کیے۔
رابرٹ گرین کو دس ماہ قید کی سزا مل چکی ہے جبکہ ڈیود کلائن کی سزا اگلے ماہ تک تجویز کر دی جائے گی۔







