روسی صدر کے ناقد کا برطانیہ میں پناہ لینے کا امکان

،تصویر کا ذریعہAP
روسی صدر ولادی میر پوتن کے سخت ناقد اور تیل کی صنعت سے وابستہ بڑے صنعت کار کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست پر غور کر رہے ہیں کیونکہ وہ خود کو لندن میں محفوظ تصور کرتے ہیں۔
90 کی دہائی میں سائبریا کے میئر کے قتل کے الزام میں روسی عدالت کی جانب سے میخائل خودورکوسکی کی ’غیر موجودگی میں گرفتاری‘ کا حکم دیا گیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یقیناً میں برطانیہ میں پناہ کی درخواست پر غور کر رہا ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے پوتن اب مجھے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘
روس کی امیر ترین شخصیات میں شمار ہونے والے خودورکوسکی بند ہو جانے والی تیل کی کمپنی یوکوس کے سربراہ تھے۔ انھوں نے سائبریا کی جیل میں دھوکہ دہی کے الزام میں دس سال قید بھی کاٹی ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی عوامل کارفرما تھے۔
روسی صدر پوتن نے سنہ 2013 میں ان کےلیے معافی کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد اب وہ بیرون ملک مقیم ہیں۔
خودورکوسکی کہتے ہیں: ’صدر پوتن کی نظر میں میں ان کے لیے خطرہ ہوں۔ بیرون ملک روسی اثاثوں کے ممکنہ قبضے کی وجہ سے معاشی خطرہ، اور آئندہ سال 2016 میں آنے والے انتخابات میں جمہوری امیدواروں کی ممکنہ مدد کرنے والے شخص کے طور پر سیاسی خطرہ ہوں۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گلپن نے خودورکوسکی سے سوال کیا کہ کیا وہ حالیہ برسوں میں صدر پوتن کے نمایاں مخالفین کی اموات کے بعد خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں؟ اس پر خودورکوسکی کا کہنا تھا کہ ’اس حکومت کے مخالفین کی اموات کی تاریخ غیر معمولی ہے لیکن میں دس سال تک جیل میں قید تھا، کسی بھی دن آسانی سے مجھے ختم کیا جا سکتا تھا۔ میں اُن دنوں کے مقابلے میں خود کو لندن میں کہیں زیادہ محفوظ تصور کرتا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی گرفتاری سے متعلق روسی فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ماسکو حکام ’پاگل ہوگئے ہیں۔‘
ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے چند ملازمین کو میئر اور ایک کاروباری شخصیت کو جان سے مارنے کا حکم دیا تھا۔ خیال رہے کہ کاروباری شخصیت جان لیوا حملے میں بچ گئے تھے۔
تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ میئر ولادی میر پیتوخوف کو 26 جون 1998 میں خودورکوسکی کی تیل کی کمپنی یوکوس سے محصولات کی ادائیگی کا تقاضے کرنے پر ہلاک کردیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ تیل کی کمپنی یوکوس پر الزام تھا کہ وہ مبینہ طور پر ٹیکس کی چوری میں ملوث تھی۔
ماسکو میں بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینز فورڈ کے مطابق حملے کےالزام میں پانچ افراد پر پہلے ہی مقدمہ چلایا جا چکا ہے جبکہ میخائل خودورکوسکی کو گرفتاری کے حکم نامہ سے اس وقت تک کوئی خطرہ نہیں ہے، جب تک وہ روس واپس نہیں جاتے۔







