ریپبلیکن امیدواروں میں دولت اسلامیہ پر گرما گرم مباحثہ

مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ دفاعی انداز میں نظر آئے جبکہ جیب بش نے انھیں ایک ’افراتفری پیدا کرنے والا امیدوار‘ کہا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ دفاعی انداز میں نظر آئے جبکہ جیب بش نے انھیں ایک ’افراتفری پیدا کرنے والا امیدوار‘ کہا

امریکہ میں ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کے لیے منعقدہ مباحثے میں قومی سلامتی کے معاملے اور دولت اسلامیہ سے نمٹنے کے طریقے پر امیدواروں میں تکرار ہوتی نظر آئی۔

جو امیدوار زیادہ نگرانی کے حق میں ہیں اور جو شہری آزادی کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں ان کے درمیان خلیج نظر آئی۔

<link type="page"><caption> کیا ڈونلڈ ٹرمپ واقعی صدر بن سکتے ہیں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151211_trump_chances_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیان پر شدید ردِ عمل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151207_donald_trump_muslims_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

ریپبلیکن کی جانب سے دوڑ میں پیش پیش نظر آنے والے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ دفاعی انداز میں نظر آئے جبکہ جیب بش نے انھیں ایک ’افراتفری پیدا کرنے والا امیدوار‘ کہا۔

دوسری جانب سنیٹر مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز کے درمیان نگرانی کے معاملے پر اختلافات نظر آئے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کو امریکہ نہ داخل ہونے دینے کی تجویز نے مباحثے کے آغاز میں ہی انھیں دفاع پر مجبور کر دیا۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا: ’ہم انھیں تنہا کرنے دینے کے بارے میں نہیں کہ رہے ہیں ہم سکیورٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم مذہب کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں ہم سکیورٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

سنیٹر مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز کے درمیان نگرانی کے معاملے پر اختلافات نظر آئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنیٹر مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز کے درمیان نگرانی کے معاملے پر اختلافات نظر آئے

اس کے بعد مباحثہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے وسیع موضوعات کی جانب چلا گيا۔

مسٹر ٹرمپ کی دولت اسلامیہ کو روکنے کے لیے ’انٹرنٹ بند کرنے‘ کی تجویز پر بھی گرما گرم بحث رہی اور جب انھوں نے اپنی تجویز کے دفاع کی کوشش کی تو انھیں سامعین کی جانب سے مذاق کا نشانہ بنایا گيا۔

اس نام نہاد مباحثے میں مسٹر ٹرمپ حیران و پریشان نظر آئے جبکہ ریپبلیکن کے چاروں امیدوار ان کے مجوزہ منصوبوں کے کارگر ہونے پر متفق نہیں تھے۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے مسلم رہنماؤں سے معافی طلب کرتے ہوئے کہا: ’میں معذرت خواہ ہوں۔ وہ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔‘

بہر حال دولت اسلامیہ کا خطرہ پہلے مذاکرے میں چھایا رہا اور امیدواروں میں اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ آیا امریکی فوج کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے براہ راست لڑنے کے لیے شام و عراق بھیجنا چاہیے یا نہیں۔

مسٹر گراہم نے جنگ کا نقارہ بجا کر اس کی حمایت کی جبکہ ارکنساس کے سابق گورنر مائک ہوکابی نے کہا کہ امریکی فوجی عراق اور افغانستان کی جنگ سے پہلے ہی تھکے ہوئے ہیں۔