کینیڈا کے پادری کو تاحیات قید بامشقت کی سزا

،تصویر کا ذریعہReuters
اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک کینیڈین پادری کو ’ریاست کے خلاف جرائم‘ کے لیے تاحیات قید بامشقت کی سزا سُنائی ہے۔
60 سالہ ہیون سُو لِم کو کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ میں جنوری میں اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ انسانی حقوق کے کام کے سلسلے میں وہاں آئے تھے۔
ٹورنٹو کے شہری اور جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے پادری نے اس سے قبل مبینہ طور پر حکومت کا تختہ اُلٹنے اور ’مذہبی ریاست‘ قائم کرنے کے لیے ’تخریب کاری کی سازش‘ کا اعتراف کیا ہے۔
خیال رہے کہ شمالی کوریا میں مذہبی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔
خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس اور چین کے سرکاری خبررساں ادارے شن ہوا جو دونوں پیونگ یانگ میں بھی کام کرتی ہیں کی اطلاعات کے مطابق مجرم لِم کو شمالی کوریا کی سپریم کورٹ میں ایک مختصر سماعت کے بعد سزا سُنائی گئی۔
شمالی کوریا کے خبررساں ادارے کے سی این اے کی جانب سے عدالتی فیصلے کی کوئی خبر نہیں دی گئی ہے۔
شن ہوا کے مطابق عدالت نے انھیں امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر شمالی کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ریکٹ میں ملوث ہونے اور جھوٹا پروپیگنڈا مواد تیار اور تقسیم کر کے ملک کی شبیہ خراب کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔



