تاجکستان میں شدید زلزلہ

دوشنبہ سے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا ہے کہ ہے کہ زلزلے کے مرکز کے قریب جھیل ’ساریز‘ سے 100 کلومیٹر دور ’مرغاب‘ کا دہات قائم ہے جہاں پہنچنا بہت مشکل ہے
،تصویر کا کیپشندوشنبہ سے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا ہے کہ ہے کہ زلزلے کے مرکز کے قریب جھیل ’ساریز‘ سے 100 کلومیٹر دور ’مرغاب‘ کا دہات قائم ہے جہاں پہنچنا بہت مشکل ہے

مشرقی تاجکستان میں ایک شدید زلزلہ آنے سے ملک کے ہمسائے ممالک میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے نے کہا ہے کہ سات اعشاریہ دو شدت کا یہ زلزلہ ملک کے دارالحکومت دوشنبہ کے مشرق سے 345 کلو میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

اب تک اس زلزلے سے ہلاکتوں کی کوئی اطلاعات نہیں آئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زلزلہ پہاڑی علاقہ ’گورنو بدخشان‘ میں پیش آیا جہاں سے آہستہ آہستہ اطلاعات آنا شروع ہوئیں گی۔

دوشنبہ اور دیگر علاقوں میں قائم سکولوں کی عمارتوں کی دیواروں پر دراڑیں آنے سے سکول بند کیے گئے ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے کرغستان، قازقستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے جہاں عمارتوں کے ہلنے سے لوگ سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئے۔

دوشنبہ سے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا ہے کہ ہے کہ زلزلے کے مرکز کے قریب جھیل ’ساریز‘ سے 100 کلومیٹر دور ’مرغاب‘ کا دیہات واقع ہے جہاں پہنچنا بہت مشکل ہے۔