النصرہ سے قیدیوں کا تبادلہ، 16 مغوی لبنانی اہلکار رہا

حکام کے مطابق شام میں القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت لبنان کے 16 سکیورٹی اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ رہا کیے جانے والے اہلکاروں کو تقریباً 16 ماہ پہلے اغوا کیا گیا تھا۔
ان اہلکاروں کو شام کے شمال مشرقی سرحدی قبصے عرسال کے قریب حکام کے حوالے کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کا معاہدہ قطر کی مدد سے طے پایا ہے جس میں لبنانی حکام نے اپنے سکیورٹی اہلکاروں کے بدلے میں 13 قیدی رہا کیے ہیں۔
رہا کیے جانے والوں میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی سابقہ بیوی اور شدت پسند تنظیم النصرہ کے ایک رکن کی بیٹی شامل ہیں۔
النصرہ اور دولتِ اسلامیہ کی ایک دوسرے کی مخالف تنظیمیں ہیں اور عرسال میں اگست 2014 میں ایک حملے میں دو درجن سے زیادہ پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو اغوا کر لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
النصرہ نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ قید میں موجود شدت پسندوں کے بدلے میں دو لبنانی اہلکاروں کو رہا کر دے گا اور لبنان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس نے چار مغویوں کو ہلاک بھی کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مغوی لبنانی اہلکاروں کے اہلخانہ نے دارالحکومت بیروت میں حکومت کے ہیڈ کوارٹر باہر احتجاج کیمپ بھی لگا رکھا تھا۔
منگل کو لبنان کے سکیورٹی ادارے جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق النصرہ فرنٹ نے شامی سرحد کے قریب وادی حامد کی پہاڑیوں میں لبنانی اہلکاروں کو عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے حوالے کیے گئے۔
قطر کے الجزیرہ ٹی وی چینل نے ان میں سے ایک مغوی کا انٹرویو کیا ہے جنھیں مسلح نقاب پوش گاڑی میں تبادلے کے لیے طے کردہ مقام پر لے کر جا رہے تھے۔
اس وقت دولتِ اسلامیہ نے لبنان کے مزید نو سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے تاہم ان کی رہائی کے بارے میں کوئی اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں۔







