’ہیکرز برطانوی جوہری نظام کو ناکارہ کر سکتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
برطانیہ کے سابق وزیر دفاع لارڈ براؤن نے خبردار کیا ہے کہ سائبر حملوں کی وجہ سے برطانیہ کا ٹرائڈنٹ جوہری نظام ناکارہ ہو سکتا ہے۔
لیبر پارٹی کے سابق وزیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’جب تک سقم دور نہیں کیے جاتے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ وزیراعظم کو ’ضرورت کے وقت‘ قابل اعتبار جوہری ڈیٹرنٹ تک رسائی حاصل ہو سکے۔‘
کنزرویٹو پارٹی کے سابق وزیر دفاع سر میلکم رفکنڈ نے اس خطرے کی شدت کو کم کر کے بیان کیا ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرائڈنٹ کے مستقبل پر مشترکہ بحث کا آغاز ہونے والا ہے۔
پیر کے روز یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نظام کو دوبارہ سے شروع کرنے پر آنے والا خرچ 31 ارب پاؤنڈز تک پہنچ گیا ہے۔
سٹریٹجک ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ’ایس ڈی ایس آر‘ جائزے کے بعد حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبدوزوں کو تبدیل کرنے کی تاریخوں کو آئندہ 2030 کے آغاز تک بڑھا دیا گیا ہے۔
جائزے کے مطابق برطانیہ سائبر سکیورٹی میں ’عالمی رہنما‘ کی حیثیت کا حامل ہے۔

لارڈ براؤن نےجو کہ سنہ 2006 سے 2008 کے درمیان وزیر دفاع تھے بی بی سی کی سیاسی مدیر لورا کیونزبرگ کو بتایا کہ ’وزراء کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ تمام ارکان پارلیمان کو یقین دلاتے کہ جوہری ڈیٹرنٹ کے تمام حصوں کا سائبر حملوں سے بچنے کے لیے معائنہ کیا گیا ہے اور انھیں محفوظ بنایا گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں تو اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ہمارے پاس قابل اعتماد جوہری ڈیٹرنٹ ہوگا یا وزیر اعظم کو ضرورت کے وقت ان تک رسائی حاصل ہوگی۔‘
تاہم سر میکلم کا کہنا ہے کہ ’ہمارے جوہری ہتھیاروں کا مقصد یہ نہیں کہ کیا وہ کام کریں گے۔سو فیصد ضمانت کے ساتھ اگر کبھی بھی ان کی ضرورت پڑی۔آپ سوچیں کے وہ کام کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ کیا دشمن یہ خطرہ مول لینے کے بارے میں سوچ بچار کرے گا۔‘
وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے جوہری ڈیٹرنٹ کے لیے کیے جانے والے سکیورٹی کے معملات کی تفصیلات پر کوئی بات نہیں کریں گے لیکن ہم انھیں سائبر خطروں سے بچائیں گے اور ہم بچا سکتے ہیں۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے قومی مفادات کی حفاظت کے لیے برطانیہ کے دفاعی اور جارحانہ سائبر قابلیت کو بڑھانے کے لیے پہلے سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘







