برطانیہ نے سکیورٹی اداروں کے فنڈز میں اضافہ کر دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی حکومت نے دولت اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ملک کے سکیورٹی اداروں کے فنڈ میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
اس فنڈ کی مدد سے برطانیہ کی اہم سکیورٹی ایجنسیاں ایم آئی 5، ایم آئی 6 اور جی سی ایچ کیو مزید 1900 افسران کی تقرریاں کر سکیں گی۔
یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ اس ہفتے برطانیہ کی کابینہ ایوی ایشن سکیورٹی فنڈ کو دگنا کرنے پر رضامند ہو جائے گی۔
یہ اعلانات جمعے کو پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد کیے گئے جن میں اب تک ایک برطانوی شہری سمیت تقریبا 129 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ’ہماری نسل کی یہ جدوجہد مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے ملک اور تہذیب کو تباہ کرنے والی قوتوں سے مقابلہ کرنے کے لیے مزید افرادی قوت جمع کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آج گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق 11 بجے برطانیہ سمیت پورے یورپ میں پیرس حملوں کا شکار ہونے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
ایسکس سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری نک الیگزینڈر کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ برطانیہ کی وزیر داخلہ ٹریزا مے کے مطابق ان حملوں میں کئی برطانوی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
برطانیہ کے تین اہم حساس اداروں کے عملے میں 15 فیصد اضافے کے لیے امداد کا انکشاف ہفتے کو حکومت کے متوقع سٹریٹجک ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ریویو کے شائع ہونے سے قبل ہی سامنے آ گيا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے امور داخلہ کے نامہ نگار ڈینیئل سان فورڈ کے مطابق اس اضافے کے بارے میں میڈیا کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
برطانیہ کے حساس اداروں میں 12 ہزار سات سو افراد پہلے سے ہی کام کر رہے ہیں۔







