چین اور تائیوان کے رہنماؤں کے درمیان تاریخی ملاقات

،تصویر کا ذریعہGetty
چین اور تائیوان کے رہنماؤں کے درمیان سنگاپور میں 60 سال سے زائد عرصے میں پہلی بار ملاقات ہوئی ہے۔
تائیوان کے صدر ما ینگ یو اور چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے آغاز سے قبل ایک دوسرے سے مصافحہ کیا جسے بڑے پیمانے پر ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چین کے خیال میں تائیوان ان سے جدا ہونے والا صوبہ ہے جو ایک دن واپس جڑ جائے گا۔ تاہم تائیوان میں بہت سے لوگ اسے آزادی کے طور پر دیکھتے ہیں اور انھیں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش بھی ہے۔
ایک پر تعیش ہوٹل میں شروع ہونے والی اس ملاقات میں ما ینگ کا کہنا تھا کہ ’دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی اقدار اور زندگی گزارنے کے طریقوں کی عزت کرنی چاہیے۔‘
دوسری جانب چینی صدر نے اپنے ہم منصب سے کہا کہ ’ہم ایک خاندان ہیں۔‘
شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ’آبنائے تائیوان کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات نے پانیوں کے دونوں جانب تعلقات میں ایک تاریخی باب کا آغاز کیا ہے اور تاریخ اس دن کو یاد رکھے گی۔‘
چین اور تائیوان کے درمیان تعلقات میں صدر ما ینگ یو کے سنہ 2008 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کافی بہتری آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیاحتی روابط میں بہتری اور تجارتی معاہدے پر بھی دستخط ہو چکے ہیں۔
ما ینگ نے اس ملاقات کو ’دوستانہ اور مثبت‘ کہا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑا سمجھوتہ یا معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ جنوبی چین کے متنازع سمندری حدود جو حال ہی میں خطے کے لیے باعث تشویش رہا ہے کے موضوع پر بات نہیں کی جائے گی۔
تاہم شی جن پنگ نے نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں خطاب کے دوران اس مسلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ہمیشہ تنازعوں کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔







