ڈرو امریکہ، ڈرو!

سنہ 1996 کے بعد سے ہر انتخاب میں جس امیدوار کے ماسک سب سے زیادہ فروخت ہوئے ہیں اسی کو وائٹ ہاؤس کی چابی ملی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنہ 1996 کے بعد سے ہر انتخاب میں جس امیدوار کے ماسک سب سے زیادہ فروخت ہوئے ہیں اسی کو وائٹ ہاؤس کی چابی ملی ہے
    • مصنف, برجیش اُپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

سنا ہے کہ اس بار امریکی ایک دوسرے کو ڈرنے ڈرانے پر سات ارب ڈالر خرچ کریں گے۔

ہیلوئین کا موسم ہے، چہرے پر ماسک (نقاب) اور سیاہی لگا کر پارٹیوں میں جانے کا موسم، گھروں کے باہر خوفناک تصویریں لگانے کا موسم، کم کپڑوں میں چڑیل کا میک اپ کر کے سیکسی بننے کا موسم اور ہاں بچوں کے لیے کینڈی اور چاکلیٹ جمع کرنے کا موسم۔

بڑا ملک ہے، بادشاہ ملک ہے، قرضے کے پیسوں سے ہی سہی، دنیا کا سب سے امیر ملک ہے، اس کی جو مرضی ہو وہ کرے۔

لیکن جو بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی وہ یہ کہ امریکیوں کوتو چوبیسیوں گھنٹے اور 365 دن ڈرا ہوا رہنا چاہیے، اور بہت سے لوگ تو خوفزدہ بھی ہیں، پھر یہ ایک دن کا تماشا کیوں؟

اب ریپبلكن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کی ریس میں سب سے آگے چلنے والے ڈونلڈ ٹرمپ ہر گلی، محلے اور چوراہے پر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ صدر بن گئے تو اس ملک میں تقریباً ایک کروڑ غیر قانونی طریقے سے رہنے والے لوگوں کو ایک جھٹکے میں باہر نکال دیں گے۔

برسوں سے یہاں رہنے والے ان لوگوں پر کیا بيتےگي، وہ تو ایک الگ کہانی ہوگی تاہم امریکہ پر کیا گزرے گی یہ سوچ کر ہی سیم چچا کے سپوتوں کی گھگّھي بندھ جانی چاہیے۔

کھیتوں میں کام کرنے والے لوگ نہیں ہوں گے، دکانوں میں سامان ڈھونےوالے نہیں ہوں گے، پانی اور بجلی ٹھیک کرنے والے نہیں ہوں گے، ریستوران میں کھانا بنانے اور سروس کرنے والے نہیں ہوں گے،گھروں کی مرمت کرنے والے بھی نہیں ہوں گے۔

اگر یہ ڈرنے کے لیے کافی نہیں ہے تو ٹرمپ صاحب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کے راج میں دفتر ہو یا دکان، ملک میں کوئی بھی کونا ایسا نہیں ہوگا جہاں بندوق لے جانے کی آزادی نہیں ہوگی۔ یعنی باس پر غصہ آئے تو بندوق نکالو، بار میں غصہ آئے تو بندوق نکالو، پولیس پر غصہ آئے تو بندوق نکالو اور جب جی چاہے تو بندوق نکال لو۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ماسک بھی دھڑا دھڑ فروخت ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ کے ماسک بھی دھڑا دھڑ فروخت ہو رہے ہیں

اگر ٹرمپ صاحب کی باتیں کافی نہیں ہیں تو دوسرے امیدوار بھی ہیں۔ کوئی اسلام کے خلاف جنگ چھیڑنے کی بات کر رہاہے، تو کوئی ہم جنس پرستوں کے خلاف، کسی کو دوبارہ عراق میں امریکی فوجیں چاہییں تو کوئی روس کو سبق سکھانے کی بات کہہ رہا ہے۔

چوبیس گھنٹے فون سنے جانے کا ڈر، ای میل پڑھے جانے کا ڈر، فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے اچانک قیمت میں پانچ سوگنا اضافہ ہونے کا ڈر، بینکوں کے ديواليہ ہو جانے کا خوف، بچوں کے کم کارڈشیاں اور ایملی سائرس کے بہکاوے میں آنے کا خوف، سیاہ فاموں کا ڈر، چینیوں کا ڈر، فیس بک کے ڈس لائیک بٹن کا خوف اور پھر اس سب کے باوجود بھی ہیلوئین؟

ویسے اس موقع پر ٹرمپ صاحب کے ماسک بھی دھڑا دھڑ فروخت ہو رہے ہیں۔

جناب یہ امریکہ ہے، بڑے لوگوں کی بڑی بات ہوتی ہے۔ یہاں ماسک کی فروخت سے اس شخص کی مقبولیت کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔

ہیلوئین کاسٹیوم فروخت کرنے والی ویب سائٹ ’سپرٹ ہیلوئین‘ کی بات مانیں تو سنہ 1996 کے بعد سے ہر انتخاب میں جس امیدوار کے ماسک سب سے زیادہ فروخت ہوئے ہیں اسی کو وائٹ ہاؤس کی چابی ملی ہے۔

تو سنہ 1996 میں جن ماسکز کی سب سے زیادہ فروخت ہوئی،ان میں 71 فیصد بل کلنٹن کے تھے، سنہ 2000 میں بش صاحب کے ماسک 57 فیصد تک فروخت ہوئے اور عراق کی جنگ کے بعد 2004 کے انتخابات میں 65 فیصد ماسک بش کے ہی فروخت ہوئے تھے۔ اوباما جی کے ماسک کی فروخت 2008 اور 2012 دونوں میں ہی میں 60 فیصد تک رہی۔

ویسے سنا ہے ان دنوں بھارت اور پاکستان میں بھی آپ لوگ ہیلوئین منانے لگے ہیں۔ اچھا ہے۔ ماسک کس کا لگانا چاہیے،یہ یہاں سے بیٹھ کر میں کیا بتاؤں، آپ تو خود ہی سمجھدار ہیں۔ غور و فکر کر کے لگائیے گا۔