سستے میں چھوٹ گیا امریکہ!

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
- مصنف, برجیش اپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن
اندازہ یہی ہے کہ وائٹ ہاؤس کی چابی کے اگلے حقدار کومنتخب کرنے پر تقریباً پانچ ارب ڈالر کا خرچ آئےگا، یعنی اتنا پیسہ جس سے شاید شام سے جان بچا کر بھاگ رہے غریب لوگوں کے لیے ایک چھوٹا سا شہر بسایا جا سکتا ہے۔
لیکن دنیا کا نیا بادشاہ منتخب ہو رہا ہو تو پھر یہ تمام چیزیں تھوڑا ہی دیکھی جاتی ہیں۔ اور جب اتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے توظاہر ہے جو امیدوار منتخب ہوگا وہ لاکھوں کروڑوں میں نہیں بلکہ اربوں میں سے ایک ہوگا۔
ایسی ایسی ہستیاں میدان میں ہیں کہ ان کی باتیں سن کر دل باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ بس ایسا لگتا ہے کہ جیسے اب دنیا کے اور اچھے دن آنے والے ہیں۔
جب بڑے بڑے مسائل پر بحث کے لیے وہ اترتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ کوئی پیچھے سے بگل بجاتے ہوئے زور سے آواز لگائے کہ ’عظیم باد شاہ، شہنشاہوں کے شہنشاہ تشریف لا رہے ہیں‘ لیکن ان ٹی وی چینل والوں کو کون سمجھائے۔
ان میں سے کوئی ڈاکٹر ہے، کوئی کسی کمپنی کا سی ای او، کوئی گورنر تو کوئی سینیٹر، لیکن بادشاہت کی اس ریس میں فی الحال جس کی پتنگ سب سے اوپر اڑ رہی ہے وہ ہیں سیدھے سادھے ارب پتی بلڈر اور بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ۔
ایسے ہردل عزیز قسم کے انسان ہیں کہ انہیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ کلاس کا وہ رئیس زادہ موٹا تازہ بچہ یاد آ جاتا ہے جوجب چاہے کسی کو دھکا دے سکتا تھا، کسی کی پنسل چھین سکتا تھا، ٹیچر کو اپنے باپ کے نام کی دھمکی دے سکتا تھا اور پاس فیل کی بے وجہ مشکلات سے بےفكر نظر آتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آج کل کے پڑھے لکھے لوگ ایسے بچوں کو ’بُلی‘ یا دھونس سے کام چلانے والے بچے کہتے ہیں۔ لیکن کتنی معصومیت ہوتی تھی اس کی حرکتوں میں، جو کہنا ہوا بغیر لاگ لپیٹ کے کہہ دیا، جس چیز پر دل آیا وہ اٹھا لی، پوری دنیا اس کے لیے اپنے ابّا حضور کی جائیداد تھی۔
ٹرمپ صاحب کا فلسفہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کیونکہ بقول ان کے امریکہ اور دنیا کی ہر پریشانی کا حل ان کے پاس ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میکسیکو سے جو لاکھوں لوگ روزگار کی تلاش میں امریکہ میں گھس آئے ہیں ان کی نظر میں اس کا سیدھا حل یہ ہے کہ سب کو بال بچوں سمیت واپس بھیج ديا جائے اور ان میں سے جوکچھ اچھے لوگ ہوں انہیں قانونی طریقے سے واپس بلا لیا جائے۔
جو باقی ہیں وہ تو ٹرمپ صاحب کے الفاظ میں ’ریپسٹ، لٹیرے، چرسي، منشیات فروخت کرنے والے ہیں جنہیں میکسیکو کی حکومت جان بوجھ کر امریکہ بھیجتی ہے۔‘ ایک بیوقوف صحافی نے ان سے پوچھا کہ ان کے پاس اس کا ثبوت کیا ہے توچھوٹتے ہی بولے ’سرحد کی نگرانی کرنے والے ایک پولیس والے نے مجھے یہی بتایا تھا۔‘
یہ ہوئی نا بات!
اسے کہتے ہیں پکا ثبوت۔
اس سے بھارت اور پاکستان کوسبق لینا چاہیے۔ فالتو میں کبھی ممبئی، تو کبھی داؤد، تو کبھی بلوچستان پر ثبوت جمع کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔
سرحد پار سے دراندازی کو روکنے کا جو طریقہ ٹرمپ صاحب نے بتایا ہے، اسے سن کر آپ کا دل نعرہ لگانے کو کہےگا کہ ’ہمارا لیڈر کیسا ہو، ڈونلڈ ٹرمپ جیسا ہو۔‘
ٹرمپ صاحب کہتے ہیں کہ امریکی سرحد پر میلوں لمبی دیوار بنوا دیں گے جس کی تعمیر پر اربوں ڈالر کا خرچ آئے گا اور اس کے لیے پیسہ وہ میکسیکو سےلیں گے۔
ان کی مانیں تو میکسیکو بھی اس کے لیے پیسہ دے دے گا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے کہیں گے کہ اگر وہ پیسہ نہیں دیتا تو امریکہ میں رہنے والے میكسیکنز جو اربوں ڈالر اپنے ملک بھیجتے ہیں اس پر وہ قبضہ کر لیں گے۔ بس نکل آیا نا اتنے بڑے مسئلے کا حل۔

،تصویر کا ذریعہAP
کتنی معصومیت ہے ان میں۔ جو لوگ انہیں پسند نہیں آتے، مرد ہوں یا عورت، انہیں اپنے دل کی بات بتانے میں وہ بالکل دیر نہیں لگاتے۔ کسی کو ’سٹُوپڈ‘ کہہ دیا، کسی عورت کو سؤر جیسی موٹی کہہ دیا، کسی کو بِمبو کہہ دیا۔ امریکہ میں ووٹروں کےایک خاص طبقے کو لگ رہا ہے کہ پہلی بار کوئی صدارتی امیدوار ایسا آیا ہے جو ان کی طرح کی بات کرتا ہے۔ اور ٹرمپ صاحب کی ٹی آر پی رات دن بڑھتی جا رہی ہے۔
جارج ڈبلیو بش صاحب سوچ رہے ہوں گے کہ اچھا ہوا کہ سنہ 2000 میں انہیں اس ٹرمپ سے مقابلہ نہیں کرنا پڑا، نہیں تو ان کے مقابلے میں تو وہ بھی نہ ٹِک پاتے۔ ان کے بھائی جیب بش کی تو زبان بند ہوتی جا رہی ہے۔ کہاں تو لگ رہا تھا کہ وہ ریس میں سب سےآگے رہیں گے اور کہاں اب وہ درجہ بندی میں سِنگل عدد پر آگئے ہیں۔
ایک اور صاحب ہیں بابی جندل۔
کبھی رپبلیکن پارٹی کے ابھرتے ہوئے ستارے کہے جاتے تھے۔ امیدواری کی دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے اپنی بھوری چمڑی کو پوسٹروں میں سنہرے بالوں والی دکھانے کی کوشش کی، مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کی، بھارتی امریکی ہونے کے باوجود کہا کہ انہیں صرف امریکی کہا جائے، لیکن ان سب کے باوجود ٹرمپ کے سامنے ان کی ایک نہیں چل رہی۔
ابھی تو انتخابات کی گرمی شروع ہی ہوئی ہے۔ باقی امیدواروں کے قصے آنے والے دنوں میں سناؤں گا۔
لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اگر ایسی عظیم شخصیات میں سےکسی ایک کو منتخب کرنے میں پانچ ارب ڈالر کا خرچ آ رہا ہے تو یہی کہنا چاہیے کہ امریکہ سستے میں چھوٹ گیا!







