ہاتھ پہلے مودی نے ہلایا یا نواز شریف نے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
سلیکان ویلی میں کسی بھی کمپنی کے لیے کامیابی کا راز یہ ہے کہ پہلے ایک بڑی سی پرابلم تلاش کرو، پھر دیکھو کہ کتنے لوگ اس کے حل کو استعمال کریں گے اور پھرایک اپلیکیشن بنانے میں لگ جاؤ۔ جتنے ہی زیادہ لوگوں کا فائدہ اتنی ہی کامیاب اپلیکیشن اور اتنی ہی گرم اس کمپنی کی جیب۔
تو میرے پیارے گوگل، فیس بک، ٹویٹر، مائیکرو سافٹ اور باقی تمام چھوٹی بڑی کمپنیاں، ہم بھارت پاکستان والوں کی آپس کی ایک بڑی پرابلم ہے اور اگر آپ اس کے حل کے لیے ایک اپلیکیشن بناتے ہیں تو ڈیڑھ ارب ڈاؤن لوڈ تو کہیں نہیں گئے ہیں۔
<link type="page"><caption> نواز شریف نے کیا پڑھا کیا نہیں پڑھا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151001_nawaz_un_wusat_ra" platform="highweb"/></link>
یہ پریشانی تبھی سے ہے جب سے ہم پیدا ہوئے یعنی تقریبا 70 برس ہونے کو آ ئے۔
مشکل سے انگوٹھا چوسنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے کی لت لگ گئی اور وہ جا نہیں رہی ہے۔ ہم جنگیں لڑتے ہیں، ہر نئی نسل کو اپنے حساب سے تاریخ کی تعلیم دیتے ہیں، اگرچہ ہم خود بھوکے رہیں لیکن پوری دنیا کی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کی جیب ہمیشہ گرم رکھتے ہیں اور ہر سال نیویارک میں بیٹھے سیم چچا کے پاس آتے ہیں، سر جھکاتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کی شکایتیں کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن آپ زیادہ پریشان نہ ہوں، اس مسئلے کو ہم آپ پر مکمل طور پر نہیں ڈال رہے کیونکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کتنے ہی بڑے تيس مار خاں کیوں نہ ہوں اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کا حل نہیں نکال سکتے۔ بڑے بڑے آئے اور چلے گئے۔
آپ کو تو بس ایک شاندار سا اپلیکیشن بنانا ہے جس سے پاکستان میں بیٹھے لوگوں کو لگے کہ بھارت کی ہر جگہ رسوائی ہو رہی ہے، حالت بد سے بدتر ہونے والی ہے، امریکہ اسے پھوٹی آنکھ نہیں دیکھنا چاہتا اور اس کی کرکٹ ٹیم ہر جگہ پٹ رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت میں جب یہ اپلیکیشن دیکھی جائے تو وہاں کے لوگوں کو محسوس ہو کہ پاکستان کو چین اور امریکہ دونوں کی ڈانٹ پڑ رہی ہے، حافظ سعید جیل میں چکی پیس رہے ہیں، داؤد ابراہیم پر توہین رسالت کا الزام لگ گیا ہے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم میں اب عمران، اکرم اور وقار یونس جیسے تیز گیند بازوں کو کبھی نہیں شامل کیا جائے گا۔
آپ کہیں گے کہ آپ نے کشمیر کا ذکر تو کیا ہی نہیں۔ بھائی صاحب جتنا کہا ہے اتنا کرو، کشمیر کا حل اگر آپ نے نکال دیا تو مودی جی اور مياں صاحب کی نوکری کا کیا ہوگا۔ اقوام متحدہ ہر سال اتنا بڑا جو جلسہ کرتا ہے اور جسے صرف بھارت اور پاکستان کے لوگ دیکھتے ہیں اس کا کیا ہوگا، میڈیا کی ٹی آر پی کا کیا ہوگا؟
آپ تو بس جیسا ہم نے کہا اپلیکیشن بنانے کی تیاری کرو۔ اور ہاں ڈیزائن بناتے وقت اس بات کا خیال رہے کہ اس میں ہرا اور زعفرانی رنگ کہیں سے بھی نہ ہو۔ اگر ہرا زیادہ ہوا تو پاکستان کے ایجنٹ كہلاوگے، زعفرانی زیادہ ہوا تو بھارت کے۔ ہمارے لوگ تو نہیں، لیکن ہماری میڈیا ان سب باتوں پر گہری نظر رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آپ کو اس بات کا یقین نہیں ہو رہا ہو تو بتا دوں کہ حال ہی میں نیویارک میں جب مياں صاحب اور مودی جی نے ایک دوسرے کی طرف ہاتھ ہلایا تو میڈیا کے ہمارے چوکس پہرے داروں نے ٹی وی پر فوٹیج کو سلوموشن میں چلا کر دیکھا کہ پہلے کس نے ہاتھ ہلایا۔ اور آپ کو محسوس ہو رہا ہوگا کہ گوگل ارتھ اور نہ جانے کیا کیا بنا کر آپ ہی کی دنیا پر نظر رکھتے ہیں۔
تو خیر مودی جی سے تو آپ کا تعارف ہو ہی چکا ہے، سلیکان ویلی کا شاید ہی کوئی کونا ہو جہاں آپ نے ان کی تصاویر نہ لی ہوں۔ ہم آپ کی اسی بات کی تو قدر کرتے ہیں کہ آپ کا بیک گراؤنڈ ریسرچ اتنا ٹھوس ہوتا ہے کہ کیا کہنے! مودی جی کی کمزوری کو آپ نے بڑی اچھی طرح سے پہچانا، ہر جگہ کیمروں کا انتظام کیا اور ان کا دل ایسا جیتا کہ ان کے آنسو تک باہر نکل آئے۔
اب اکتوبر میں مياں صاحب واشنگٹن آ رہے ہیں۔ انہیں بھی سلیکان ویلی آنے کی دعوت دے ڈالیے، اور ہاں ان کا دل جیتنا ہو تو کیمرے نہیں بلکہ ہر جگہ نہاری اور پائے کا انتظام کیجیے گا۔
باقی تو آپ خود ہی سمجھ دار ہیں۔







