کیا ہلیری کلنٹن کو ایک نوجوان سینیٹر سے خطرہ ہے؟

مارکو روبیو ٹیلی ویژن پر اچھے دکھتے ہیں اور ہسپانویوں میں بہت مقبول ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمارکو روبیو ٹیلی ویژن پر اچھے دکھتے ہیں اور ہسپانویوں میں بہت مقبول ہیں

ہلیری کلنٹن نے امریکہ کے پہلی خاتون صدر بننے کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی میں اپنا پوزیشن مضبوط تو کر لی ہے لیکن فتح کی راہ میں انھیں ایک جوان سینیٹر کی صورت میں ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک ایسے سینیٹر جن کے بارے میں فلوریڈا کی ریاست سے باہر کم ہی لوگ جاننتے ہیں۔

اگر رپبلکن پارٹی کے مشیر ایک فیکٹری میں اپنا مثالی صدارتی امیدوار بنائیں تو کنویئر بیلٹ سے آنے والے امیدواروں میں سے ایک بہترین مثال انھیں مارکو روبیو کی شکل میں ملے گی۔

وہ جوان ہیں۔ واضح اور اچھی مواصلات کرنے کے قابل ہیں۔ ٹیلی ویژن پر اچھے دکھتے ہیں۔ ان کی کہانی بالکل امریکن ڈریم یا امریکی خواب کی طرح کی ہے جس میں لوگوں کو ان کی محنت کا پھل ملتا ہے۔ انھیں ہسپانوی پسند کرتے ہیں۔کم غلطیاں کرتے ہیں۔ ان سب خوبیوں پر انھیں ’ٹک مارک‘ ملتے ہیں۔

ان کے مقابلے میں دیگر رپبلکن امیدواروں نے کہیں زیادہ توجہ حاصل کی ہے لیکن یہ 44 سالہ کیوبن امریکی چپ چاپ اپنا کام کر رہے ہیں۔

’ریئل کلیئر پالٹکس‘ کے ایک عوامی سروے کے مطابق رپبلکن پارٹی کی نامزدگی کی دوڑ میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دماغی سرجن بین کارسن سے کوسوں دور تیسرے نمبر پر ہیں۔

لیکن امریکی انتخابات اور سیاست کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو انتخابات کی دور میں ’حقیقی‘ طور پر آگے ہیں۔

امریکہ کے صدارتی امیدوار

،تصویر کا ذریعہna

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے صدارتی امیدوار

روتھنبرگ پالٹکل رپورٹ کے مصنف سٹو روتھنبرگ کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو کے نامزد کیے جانے کے اتنے ہی امکانات ہیں جتنے دیگر امیدواروں کے ہیں۔

انھوں نے کہا ’اگر آپ مجھے سچ اگلوانے والی منشیات کھلا کر پوچھتے ہیں کہ صدارتی امیدوار بننے کے لیے کس کے سب سے زیادہ امکان ہیں تو میں کہوں گا مارکو روبیو کے۔ وہ ایک کرشماتی شخصیت ہیں، جوان ہیں اور بہت اچھا بولتے ہیں۔‘

لیکن اس کے ساتھ سٹو تنبیہ دیتے ہیں کہ اس دور کے دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے اور مارکو روبیو کے تجربے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

کچھ رپبلکن ووٹروں کو ایک اور براک اوباما دیکھائی دیتے ہیں، ایک 40 سالہ سینیٹر جو وائٹ ہاؤس تک پہنچ گئے لیکن تیار نہیں تھے۔

لیکن سیاسی مشیروں کے ہونٹوں پر روبیو کا ہی نام ہے۔ کیوں؟ جبکہ ٹرمپ اور کارسن کو کہیں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

روتھنبرگ کہتے ہیں کہ جنوری میں جب ابتدائی مقابلے شروع ہوں گے تو شاید رپبلیکن ووٹر اپنے آپ سے پوچھیں گے کہ کون حقیقت میں صدر بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے پارٹی کے اشرافیہ سے اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ اور کارسن جیسے ’بیرونی‘ امیدواروں کی حمایت کی ہے، اب مرکزی دھارے میں شامل امیدواروں کی طرف دیکھیں گے۔

انھوں نے کہا ’ٹرمپ سے لوگ بیزار ہو سکتے ہیں۔‘

مارکو روبیو نوجوان طبقے میں کافی مقبول ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمارکو روبیو نوجوان طبقے میں کافی مقبول ہیں

روتھنبرگ نے یہ بھی کہا کہ ووٹر شاید امیدواروں کو ایک مختلف نظریے سے دیکھیں۔ انھوں نے کہا ’ووٹر ایک اور ’بوڑھے، سفید فام آدمی‘ کو نامزد نہیں کرنا چاہتے۔

ریاست میامی میں کیوبا کے تارکین وطن کے گھر پیدا ہونے والے مارکو روبیو نے اپنا بچپن لاس ویگس کے شہر میں گزارا جہاں ان کے والد ایک بار مین تھے اور ان کی والدہ کسی کے گھر میں ایک ملازمہ تھیں۔

میامی میں سکول ختم کرنے پر انھوں نے سیاسیات اور قانون میں ڈگری حاصل کیں جس کے بعد ان پر پڑھائی سے متعلق ایک لاکھ ڈالر کے مقروض ہو گئے۔ انھوں نے یہ قرضہ حالیہ برسوں میں ہی اتارا تھا۔

فلوریڈا میں وہ سیاست کی سیڑھی پر تیزی سے چڑھ گئے اور سنہ 2012 میں انھوں نے سینیٹ میں ایک نشست حاصل کر لی۔

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر مارکو روبیو رپبلکن نامزدگی کا مقابلہ جیت جاتے ہیں تو ہلیری کلنٹن کو سب سے زیادہ خطرہ ان سے محسوس ہوگا۔ مارکو روبیو ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں زیادہ جوان ہیں اور ہسپانوی برادری میں بھی مقبول ہیں۔

ٹمپا کے شہر میں جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کے سیاسیات کے شعبے میں پروفیسر سوزن مکمانس کا کہنا ہے کہ ہلیری کلنٹن کو سب سے زیادہ خطرہ مارکو روبیو اور جوان لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کی زبان بولتے ہیں، ان کی موسیقی سنتے ہیں اور امیر بھی نہیں ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے جیتنے کے امکان کم ہیں۔

پولیٹکل سائنسدان شون بولر کا کہنا ہے کہ کم وسائل کی وجہ سے مارکو نائب صدر ہی بن سکتے ہیں۔

لیکن یہ صورت حال بھی بدل سکتی ہے۔

بدھ کو ہونی والی اگلی رپبلکن بحث میں اگر روبیو اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ جیب بش کے ڈونرز فلوریڈا کے دوسرے اہم گھوڑے پر اپنا پیسہ لگائیں۔