بن غازی حملے پر ہلیری کلنٹن کی پیشی

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات کی ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے لیبیا میں سنہ 2012 میں امریکی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے بارے میں شہادت دینے جا رہی ہیں۔
اس حملے میں امریکی سفیر کے علاوہ تین امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے۔
حملے کے وقت ہلیری کلنٹن ملک کی وزیر خارجہ تھیں اور امکان ہے کہ انھیں سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ ہلیری کلنٹن کی اس معاملے پر کانگریس کے سامنے دوسری پیشی ہو گی۔ کانگریس میں رپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔
کلنٹن کا کہنا ہے کہ یہ ان کی صدارتی مہم کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔
لیبیا کے شہر بن غازی میں 11 ستمبر سنہ 2012 میں ایک امریکی قونصلیٹ پر مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب کیے جانے والے حملے پر کانگریس کی جانب سے پہلے سے ہی سات دفعہ تحقیقات کی جا چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حملے میں امریکی سفیر کرس سٹیونز اور قونصلیٹ کے عملے کے تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
توقع ہے کہ ہلیری کلنٹن سے یہ سوالات پوچھے جائیں گے:
- امریکی حکومت نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد ابتدا میں کیوں دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ اچانک کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں ثبوت پیش کیا گیا تھا کہ اس حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی؟
- امریکی سفیر کرس سٹیونز کی طرف سے قونصلیٹ میں اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواستوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟
- کیا ہلیری کلنٹن نے وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے تمام خط و کتابت کے لیے سرکاری ای میل اکاؤنٹ استعمال کرنے کے بجائے نجی ای میل سرور استعمال کر کے خفیہ معلومات کو غیر محفوظ بنا دیا تھا؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہلیری کلنٹن کے لیے یہ بہت اہم وقت ہے۔ بدھ کو ان کے حریف نائب صدر جو بائڈن کے انکشاف کے بعد کہ وہ صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہر ہو رہے ہیں، ہلیری کلنٹن ڈیموکریٹ پارٹی کی اہم امیدوار بن گئی ہیں۔
بن غازی پر ایوان نمائندگان کی منتخب کمیٹی کے سامنے ان کی پیشی یا تو ان کے موقف کو زیادہ مضبوط بنا سکتی ہے یا پھر بطور صدارتی امیدوار ان کے نام کے آگے سوالیہ نشان لگا سکتی ہے۔







