نتن یاہو کے بیان پر یہودی اور مسلمان برہم

،تصویر کا ذریعہAP
اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے اس بیان پر کہ ہٹلر کو یہودیوں کو نیست و نابود کرنے پر فلسطین کی مسلمان آبادی کے مذہبی پیشوا نے آمادہ کیا تھا، نہ صرف تاریخ دانوں کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے بلکہ اسرائیل کے یہودیوں نے بھی اس بیان پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نے منگل کو ایک تقریر میں کہا ہے کہ بیت المقدس کے مفتیِ اعظم امین الحسینی نے ہٹلر کو یہودیوں کے قتل عام پر تیار کیا تھا۔
صیہونی عالمی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو نے کہا کہ ہٹلر اس وقت یہودیوں کو ختم نہیں کرنا چاہتے تھے اور صرف یہودیوں کو ملک سے بےدخل کرنا چاہتے تھے۔
نتن یاہو نے مزید کہا کہ حاج امین الحسینی ہٹلر سے ملے اور کہا کہ اگر تم انھیں (یہودیوں) کو نکال رہے ہو تو وہ سب فلسطین آ جائیں گے۔
نتن یاہو کے مطابق اس پر ہٹلر نے پوچھا کہ تو پھر ان کا کیا کیا جائے۔ حاج الحسینی کا اس بارے میں جواب تھا کہ انھیں جلا دو۔

،تصویر کا ذریعہHULTON Archive
اسرائیل کی حزب اختلاف کے سیاست دانوں اور فلسطینی رہنماؤں نے اس پر شدید تنقید کی ہے جبکہ سکہ بند تاریخ دانوں نے اسے غلط قرار دیا ہے۔
نتن یاہو نے یہ بیان فلسطین میں پہلے سے موجود کشیدگی کے دوران دیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نے یہ بیان مسجد الاقصی کی انتظامی حیثیت میں تبدیلی کے بارے میں ظاہر کیے جانے والے خدشات کے تناظر میں دیا ہے اور یہ دلیل دینے کی کوشش کی کہ بیت المقدس کے مفتی نے اس وقت بھی یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ یہودی اس کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ اصل میں فلسطینیوں کی طرف سے مسجد الاقصی کے بارے میں ظاہر کیے والے خدشات ہیں اور ان ہی کی وجہ سے اسے ہوا ملی رہی ہے۔
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب ارکات نے نتن یاہو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی صدمے کی گھڑی ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم اپنے ہمسائیوں کی نفرت میں اس قدر آ گے نکل گئے ہیں کہ وہ 60 لاکھ یہودیوں کے قاتل اور تاریخ کے بدنام ترین آمر کو بھی اس کے جرائم سے بری کرنے پر تیار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما اسحاق ہرزوگ اپنے فیس بک پیج پر یوں رقم طراز ہوئے کہ کم از کم ایک تاریخ دان کے بیٹے کو تو تاریخ کے بارے میں درست ہونا چاہیے۔
ان کا اشارہ نتن یاہو کے والد بینزوائن کی طرف تھا جو یہودیوں کی تاریخ کے ماہر تھے۔
اسرائیل میں یہودیوں کے قتل عام ہولو کاسٹ کی یادگار اور تحقیقی مرکز کے سربراہ نے نتن یاہو کے بیان کو لغو قرار دیا۔
دینا پوارت نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہودیوں کو ختم کرنے کا خیال ہٹلر کو مفتی حسینی نے نہیں دیا تھا۔
ان کے مطابق حسینی اور ہٹلر کی نومبر 1941 میں ملاقات سے بہت پہلے ہی یہ سوچ موجود تھی۔
انھوں نے کہا کہ 30 جنوری 1939 کو ہٹلر نے رائسٹاک میں اپنی ایک تقریر میں یہودیوں کی نسل ختم کرنے کی سوچ کا اظہار کیا تھا۔







