’جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر بات ہو گی معاہدے پر نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے دورہ امریکہ میں جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی کی بات تو ہو گی لیکن جوہری معاہدے کے امکانات نہیں ہیں۔
یہ بات وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔
وزیر اعظم پاکستان نواز شریف 20 اکتوبر سے تین روزہ دورے پر امریکہ جا رہے ہیں جہاں وہ امریکی صدر براک اوباما سے 22 اکتوبر کو ملاقات کریں گے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں جمعرات کو ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عنقریب چھوٹے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار تنصیب کرنے والا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو پریشانی ہے کہ ان جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کرنا زیادہ مشکل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان لمبی رینج کے میزائل بھی تنصیب کر رہا ہے جو بھارت سے بھی دور مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسی سلسلے میں امریکی انتظامیہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتی ہے جس میں جوہری ہتھیاروں تک رسائی کی شرائط میں کمی بھی شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جوش ارنسٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’جو خبروں میں کہا جا رہا ہے، میں اس قسم کے معاہدے کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں ہوں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اور امریکہ جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی کے سلسلے میں مذاکرات کرتے رہتے ہیں اور میرے خیال میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی ملاقات کے دوران اس معاملے پر بات چیت ہو گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کو اعتماد ہے کہ حکومت پاکستان جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرات سے آگاہ ہے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز پروفیشنل ہیں جو جوہری تنصیبات کی سلامتی کی اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔







