’پاکستان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کا خواہش مند نہیں ہے۔
دفتر خارجہ نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہا ہے۔
جمعے کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے پاکستان کا جوہری پروگرام جنوبی ایشیا میں امن کے استحکام کے لیے ہے اور وہ کسی قسم کی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کا خواہش مند نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری طاقت ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی جوہری پروگرام کے حوالے سے پالیسی تحمل اور ذمہ داری پر مبنی ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام کا مقصد صرف خطے میں امن اور استحکام کا قیام ہے۔
بیان کے مطابق اس قسم کی اطلاعات سے بھارت کی بڑھتی ہوئی جوہری طاقت سے سے توجہ ہٹانا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کے نیوکلیئر سپلائیرگروپ (این ایس جی) کے رکن ممالک کے ساتھ جوہری معاہدوں کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے مقاصد پر کاربند ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں دو امریکی تھنک ٹینکس کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستان آئندہ پانچ سے 10 برسوں کے دوران 350 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ امریکہ اور روس کے بعد جوہری ذخائر رکھنے والا تیسرا بڑا ملک بن جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق کانیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس اور سٹمسن سینٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اپنے روایتی حریف اور جوہری طاقت بھارت کے مقابلے میں تیزی سے اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان بھارت کے مقابلے میں اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں کہیں زیادہ آگے ہے۔
کانیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس اور سٹمسن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 120 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 100 ہے۔







