لاپتہ حاجیوں کی تلاش سوشل میڈیا کے ذریعے

صفحہ بنانے والی نابو تراؤرے کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکافی ہیں

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا کیپشنصفحہ بنانے والی نابو تراؤرے کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکافی ہیں

مالی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے فیس بک پر ایک صفحہ بنایا ہے تاکہ دورانِ حج بھگدڑ کے بعد لاپتہ ہونے والے مالی کے باشندوں کی تلاش میں مدد کی جا سکے۔

سعودی عرب کے شہر مکہ کے قریب منیٰ کے مقام پر بھگدڑ مچنے سے سعودی حکام کے مطابق 769 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

<link type="page"><caption> لاپتہ حاجی کہاں گئے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/150930_mina_stampede_victi" platform="highweb"/></link>

تاہم کئی مالک کے متعدد باشندے اب بھی لاپتہ ہیں جن میں مالی کے کم سے کم دو سو باشندے شامل ہیں۔

فرانس میں مقیم اس خاتون نے لاپتہ ہو جانے والے افراد کے ورثا سے کہا ہے کہ وہ ان افراد کی تصاویر اور نام انھیں بھیجیں جنھیں وہ اس صفحے پر پوسٹ کریں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ صفحہ بنانے کی وجہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کی جانے والی ناکافی کوششیں ہیں۔

نابو تراؤرے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے لگا کہ اس معاملے میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد لاپتہ ہوتا تو اسے ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا۔‘

اس صفحے کے 2800 کے قریب رکن بن چکے ہیں۔

مالی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس بھگدڑ میں کم سے کم 60 مالی باشندے مارے گئے ہیں۔

سعودی حکام کی جانب سے مرنے والوں کی تعداد کو مسترد کرتے ہوئے کئی آزاد ذرائع ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں بتا رہے ہیں۔

کئی مالک کے متعدد باشندے اب بھی لاپتہ ہیں جن میں مالی کے کم سے کم دو سو باشندے شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکئی مالک کے متعدد باشندے اب بھی لاپتہ ہیں جن میں مالی کے کم سے کم دو سو باشندے شامل ہیں