جرمنی میں امریکہ سے آزادانہ تجارت کے خلاف مظاہرہ

سنیچر کو منعقد ہونے والے مظاہرے کے لیے لوگ سینکڑوں بسوں کے ذریعے جرمنی کے دارالحکومت پہنچے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسنیچر کو منعقد ہونے والے مظاہرے کے لیے لوگ سینکڑوں بسوں کے ذریعے جرمنی کے دارالحکومت پہنچے تھے

امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے منصوبے کے خلاف جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہزاروں افراد کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا ہے۔

منتظمین کے مطابق مظاہرے میں تقریباً دو لاکھ 50 ہزار افراد شریک تھے جبکہ پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی۔

ٹرانس اٹلانٹک ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ پارٹنرشپ ( ٹی ٹی آئی پی) کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ یہ صارفین اور مزدوروں کے حقوق کے لیے بھی خطرہ ہے۔

منتظمین کے مطابق اس میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جبکہ پولیس کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ تھی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمنتظمین کے مطابق اس میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جبکہ پولیس کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ تھی

دوسری جانب معاہدے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے، عالمی معیشت کو فروغ دینے اور نئی نوکریوں کے مواقع فراہم کرنے کا باعث بنے گا۔

سنیچر کو منعقد ہونے والے مظاہرے کے لیے لوگ سینکڑوں بسوں کے ذریعے جرمنی کے دارالحکومت پہنچے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ماحولیاتی تنظیم جرمن فرینڈز آف نیچر کے صدر مائیکل مولر کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں اس لیے آئے ہیں کیونکہ ہم اپنا مستقبل بازار کے سہارے نہیں چھوڑ سکتے، اس کے برعکس ہم جمہوریت کو بچانا چاہتے ہیں۔‘

مظاہرین اسے جمہوریت بچاؤ تحریک قرار دے رہے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمظاہرین اسے جمہوریت بچاؤ تحریک قرار دے رہے تھے

جرمنی کی حکومت اس معاہدے کی حامی ہے اور وزیر اقتصادیات زِگمار گیبرِیل کی جانب سے جرمنی کے مختلف اخباروں میں شائع ہونے والے خط میں اس معاہدے کے بارے میں ’سنسنی پھیلانے‘ کے حوالے سے متنبہ کیا گیا ہے۔

ٹی ٹی آئی پی پر مذاکرات کا آخری دور سنہ 2016 میں ہوگا۔ معاہدہ طے پاجانے کی صورت میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ ہوگا۔