دیوار برلن کا انہدام ایک خواب کی تعبیر تھا: جرمن چانسلر

،تصویر کا ذریعہAFP
دیوار برلن کے انہدام کے پچیس سال مکمل ہونے پر برلن میں ہونےوالی تقریبات کے اختتام پر آٹھ ہزار گیس سے بھرے ہوئے غبارے ہوا میں چھوڑے گئے۔اس موقعے پر جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے کہا کہ دیوار برلن کے انہدام نے ثابت کر دیا کہ خواب بھی حقیت کا روپ دھار سکتے ہیں۔
نو نومبر 1989 کو دیوار برلن کے انہدام کو یورپ میں سرد جنگ کے خاتمے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دیوار برلن کےگرنے میں اہم ادا کرنے والے سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف مہمان خصوصی کے طور پر ان تقریبات میں شریک رہے۔
میخائل گورباچوف نے کہا ہے کہ یورپ نے سوویت یونین کے خاتمے کو اپنی فتح گردان کر بغلیں بجانی شروع کر دیں جس سے روس ناراض ہوا۔انھوں نے مغربی دنیا کو مشورہ دیا کہ وہ روس کو مزید ناراض نہ کرے اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو طے کرے۔
جرمن چانسلر اینگلا مرکل نےدیوار برلن کے بقیہ حصے جہاں مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی جانے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی، وہاں پھول رکھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
برلن کی شہری حکومت نے اسی مقام پر سٹیزن پارٹی کا اہتمام کیا جہاں سے پچیس سال پہلے ہزاروں جرمنوں نے دیوار کو عبور کیا۔ دیوار برلن کو 1961 میں تعمیر کیا گیا تھا تاکہ لوگ مشرقی جرمنی سے بھاگ نہ سکیں۔
برلن کے میئر کلاوس ووریٹ نے پہلا غبارہ ہوا میں چھوڑتے ہوئے کہا :’ہم دنیا کے خوش نصیب لوگ ہیں۔ ہمیں اس بات کی انتہائی خوشی ہے کہ ہم نے 25 برس پہلے اس دیوار کو گرا دیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے اس موقعے پر کہا کہ ان واقعات کو بھول جانا آسان ہے لیکن ان واقعات کو یاد رکھنا اہم ہے۔
انھوں نے کہا :’ہم حالات کو بہتر کر سکتے ہیں۔ میرا یہی پیغام یوکرین، عراق اور دوسری جگہوں کے لیے ہیں جہاں انسانی حقوق کو خطرات لاحق کیے جا رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







