مالدووا میں جوہری مواد کی سمگلنگ کی کوشش ناکام

تفتیشی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پرتابکار مادہ زیادہ تر روس سے آتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتفتیشی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پرتابکار مادہ زیادہ تر روس سے آتا ہے

مشرقی یورپی ملک مالدووا کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے امریکی ادارے ایف بی آئی کی مشترکہ کوششوں کے بعد گذشتہ پانچ سالوں میں چار بار سمگلروں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندوں کے ہاتھوں جوہری مواد کی فروخت کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تازہ ترین واقعہ رواں سال فروری میں اُس وقت سامنے آیا جب قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے خفیہ اہلکاروں کو تابکار مادے سیزیم کی بڑی مقدار فروخت کے لیے پیش کی گئی تھی۔

تفتیشی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر تابکار مادہ زیادہ تر روس سے آتا ہے اور کچھ گروہوں کے مبینہ طور پر روس کی خفیہ ایجنسیوں سے روابط ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات روس سے سمگلروں کی جانب سے تابکار مواد کی کامیاب برآمد اور فروخت کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

یاد رہے مالدووا ماضی میں سوویت یونین کا حصہ رہ چکا ہے۔

اے پی کے مطابق کئی واقعات میں پولیس تابکار مادے کی خرید و فروخت ابتدا ہی میں روکنے میں کامیاب ہو گئی تھی تاہم گروہ کے سرغنہ ممکنہ طور پر ممنوع جوہری مواد کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

سیزیم کی مخصوص مقدار کی غیر قانونی فروخت کے واقعے میں سمگلروں کی جانب سے 25 لاکھ یوروز طلب کیے گئے تھے۔ سیزیم کی مذکورہ مقدار کسی بھی شہر کے کافی بڑے علاقے کو آلودہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں سامنے آنے والے دیگر تین ناکام سودوں کے تفصیلات درج ذیل ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں سامنے آنے والے دیگر تین ناکام سودوں کے تفصیلات درج ذیل ہیں

مالدووا کے دارالحکومت چی شی ناؤ کی ایک مقامی تفریح گاہ میں ملزم نے ممکنہ گاہک بن کر ملاقات کرنے والے پولیس کے خفیہ اہلکار کو بتایا کہ ’تم جوہری بم بھی بنا سکتے ہو جو نام نہاد دولت اسلامیہ کے لیے بالکل موزوں ہو گا۔ اگر آپ کے ان سے روابط ہیں تو کاروبارمیں اور آسانی ہو جائے گی۔‘

نمونے کے طور پر ایک شیشی میں قدرے کم تابکار خصوصیات کی حامل سیزیم 135پیش کی گئی جس کے بعد پولیس نے ملزمان پر ہلہ بول کر ملزم سمیت دو دیگر افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

سنہ 2010 میں اس وقت تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جب چھوٹی نال والی بندوق کی یورینیئم کی آمیزش والی نال کے عوض نقد رقم وصول کی گئی تھی۔

تفتیشی اہلکاروں نے مشرق وسطیٰ میں 2011 میں جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے یورینیئم کی ممکنہ فروخت ناکام بنا دی تھی۔

گذشتہ سال کے آخر میں 15 ہزار امریکی ڈالر کے عوض غیر افزودہ یورینیئم کی فروخت کے موقعے پر چھ افراد گرفتار کر لیے گئے تھے جبکہ پانچ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔