کولمبیا: حکومت اور باغی تنظیم کے درمیان معاہدہ

کولمبیا کے صدر جوان مینوئیل سانتوس اور باغی تنظیم کے رہنما رودریگو لندونو کے درمیان کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ملاقات ہوئی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکولمبیا کے صدر جوان مینوئیل سانتوس اور باغی تنظیم کے رہنما رودریگو لندونو کے درمیان کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ملاقات ہوئی

کولمبیا کے صدر اور باغیوں کی تنظیم فارک کے رہنما نےگذشتہ پانچ عشروں کے تنازعے کے دوران ہونے والے جرائم پر عدالتی کارروائی کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام پر ہونے والے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔

بات چیت کے بعد حقائق کو اجاگر کرنے والے ایک کمیشن اور بعض خاص افراد کو قانونی چارہ جوئی سے الگ رکھنے کے لیے ایک خاص قانون بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کولمبیا کے صدر ہوان مینوئل سانتوس اور باغی تنظیم کے رہنما رودریگو لندونو کے درمیان کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ملاقات ہوئی۔

امن کے لیے گذشتہ تین برس سے جاری یہ بات چیت کیوبا کی ثالثی میں ہو رہی ہے اور اس معاہدے کو اس سمت میں بڑی کامیابی کے طور دیکھا جا رہا ہے۔

کولمبیا کے صدر مسٹر سانتوس نے کہا: ’اب امن کا وقت آپہنچا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے لندونو سے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ امن کے حتمی معاہدے پر چھ ماہ کے اندر دستخط ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا: ہم 23 مارچ 2016 کو جنوبی امریکہ کے سب سے طویل تنازعے کو الوداع کہہ رہے ہوں گے۔‘

بدھ کے روز جس معاہدے پر دستخط ہوئے اس کے مطابق فوجیوں کو عدالتی چارہ جوئی سے استثنیٰ حاصل ہو گا لیکن جو انسانی حقوق کی پامالیوں اور جنگی جرائم کے مرتکب ہوں گے وہ اس کے دائرے سے خارج ہوں گے۔

باغی تنظیم فارک کے ہزاروں جنگجو اب بھی حکومتی افواج سے نبرد آزما ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنباغی تنظیم فارک کے ہزاروں جنگجو اب بھی حکومتی افواج سے نبرد آزما ہیں

بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انصاف کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام بات چیت کا مشکل ترین حصہ تھا۔

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے اس موقعے پر کہا کہ امن اب پہلے سے بہت قریب ہے۔ ’ہم پہلے سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ تمام مشکلات کو دور کر لیا جائے گا۔‘

باغیوں کی تنظیم کے ساتھ اصلاح اراضی، سیاست میں شراکت اور منشیات سے متعلق معاہدہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

کولمبیا میں باغیوں اور حکومت کے درمیان پانچ عشروں تک چلنے والے تنازع میں تقریباً دو لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس دوران تقریباً 50 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور تقریبا 70 لاکھ لوگ اس سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں۔

اب بھی فارک کے تقریباً آٹھ ہزار جنگجو حکومت کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔