شام کے مسئلے پر روس اور امریکہ میں مذاکرات

شام میں روس کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر امریکہ اور نیٹو کو شدید تحفظات ہیں

،تصویر کا ذریعہap

،تصویر کا کیپشنشام میں روس کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر امریکہ اور نیٹو کو شدید تحفظات ہیں

پینٹاگون حکام کے مطابق امریکہ اور روس نے شام کے مسئلے پر مذاکرات کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد شام میں جاری جنگ پر بات چیت ہوئی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے جاری بیان کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے اپنے روسی ہم منصب سرگئے شوےگو کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس نکتے پر بھی بات کی کہ شام میں جاری جنگ میں روس اور امریکہ زمین پر کسی حادثاتی ٹکراؤ سے کیسے بچ سکتے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق روس نے کہا ہے کہ بات چیت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ دونوں فریقین کی دلیل مشترک ہے۔

خیال رہے کہ روس اور امریکہ کے شام میں جاری خانہ جنگی پر شدید اختلافات ہیں۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے فوجی سطح پر مذاکرات کی پیشکش رواں ہفتے کے آغاز پر کی تھی۔

امریکہ حالیہ دنوں میں روس کی شام میں عسکری سرگرمیوں میں اضافے پر خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس سے قبل بیان میں کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس پر دونوں متفق ہوں۔

دوسری جانب روس کے صدارتی دفتر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا گیا تھا کہ شام کی جانب سے فوجی بھیجنے کی کسی بھی درخواست پر غور کیا جائے گا مگر محض کسی مفروضے کی بنیاد پر کوئی بات کہنا مشکل ہے۔

روس نے حالیہ دنوں میں شام کی فوجی امداد میں اضافہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشنروس نے حالیہ دنوں میں شام کی فوجی امداد میں اضافہ کیا ہے

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق روس کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ’ہم نے امریکہ سے بات چیت کرنے سے انکار نہیں کیا، اب ہم باہمی مفادات کے تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

شام کی خانہ جنگی میں روس صدر بشار الاسد کا حامی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے خلاف شام کی مدد کر رہا ہے۔

روس نے شام میں اپنی فوجی موجودگی میں ایک ایسے وقت میں اضافہ کیا ہے جب شامی حکومت کو حال ہی میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ اور نیٹو نے روس کی جانب سے شام میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو نے اضافی ہوائی جہاز اور جنگی ٹینک کھڑے کرنے کے لیے دو بحری جہاز شام کی حدود میں قائم روسی بحری اڈے کے لیے روانہ کیے ہیں۔

لیکن روسی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے بدھ کو اس بات پر زور دیا کہ اس تازہ پیش رفت میں کچھ نیا نہیں تھا کیونکہ ماسکو طویل عرصے سے شام میں ہتھیار اور عسکری فوجی ماہرین بھیج رہا ہے۔