دو سال میں آسٹریلیا کا چوتھا وزیرِاعظم

،تصویر کا ذریعہGetty
آسٹریلیا میں وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے اپنی جماعت کی قیادت کا انتخاب ہارنے کے بعد اب ملک میں ایک نئے وزیر اعظم کا انتخاب متوقع ہے۔
ٹونی ایبٹ کو انہی کی جماعت کے سینیئر رہنما مالکم ٹرن بل نے دائیں بازو کی مرکزی جماعت لبرل پارٹی کے رہنما کے عہدے کے لیے چیلنج کیا تھا جس میں ٹونی ایبٹ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
عجلت میں منعقد کیے گئے قیادت کے انتخاب میں ٹونی ایبٹ کو کل 44 ووٹ پڑے جبکہ ان کے مدِ مقابل ٹرن بل کو 54 ووٹ ملے۔
لبرل پارٹی کے نئے قائد سنہ 2013 کے بعد آسٹریلیا میں چوتھے وزیراعظم ہوں گے۔
مالکم ٹرن بل کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پارلیمان اپنی مدت مکمل کرے گی اور عام انتخابات نہیں ہوں گے۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹونی ایبٹ کی جانب سے آسٹریلیا کے گورنر جنرل کو اطلاع دینے اور مستعفی ہونے کے فوراً بعد نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گیا۔
پیر کو لبرل پارٹی کے ارکانِ پارلیمان کی ملاقات کے دوران پارٹی رہنما کے لیے ووٹنگ کی گئی جس میں آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جولی بشپ کو پارٹی کی ڈپٹی لیڈر برقرار رکھنے کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے۔

اس انتخاب کے نتائج کے اعلان کے بعد بات کرتے ہوئے ٹرن بل نے سابقہ رہنما کے بطور وزیراعظم ’خوفناک کارناموں‘ کی تعریف کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نو منتخب پارٹی لیڈر نے کہا کہ ’آسٹریلیا کو ایک ایسے قائد کی ضرورت ہے جو اقتصادی نظریہ رکھتا ہو اور ایک ایسی قیادت جو درپیش چیلنجوں سے نمٹ سکے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’میں ایک ایسی لبرل حکومت کی قیادت کروں گا جو انفرادی اور اجتماعی آزادی کی ضامن ہو۔‘
واضح رہے کہ ٹرن بل مستعفی ہونے اور قیادت سنبھالنے کا دعوی کرنے سے قبل ٹونی ایبٹ کے دور حکومت میں بطور وزیر اطلاعات خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
ان کی جماعت میں موجود بہت سے لوگ ہم جنس شادیوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی حمایت کرنے کی وجہ سے انھیں پسند نہیں کرتے ہیں۔
اس سے قبل پیر کو ہی مالکم ٹرن بل کا کہنا تھا کہ اگر ایبٹ قائد برقرار رہے تو اتحادی حکومت آئندہ انتخاب ہار جائے گی۔
خیال رہے کہ اپنی مدت مکمل کرنے والے آخری آسٹریلوی وزیراعظم جان ہارورڈ تھے انھوں نے اقتدار سنہ 2007 میں چھوڑا تھا۔







