لندن کے میئر کے لیے پاکستانی نژاد صادق خان لیبر پارٹی کے امیدوار نامزد

- مصنف, عادل شاہ زیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
برطانیہ کی لیبر پارٹی نے پاکستانی نژاد سیاست دان صادق خان کو لندن کے میئر کے عہدے کے لیے پارٹی امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
ٹوٹنگ سے برطانوی پارلیمنٹ کے رکن صادق خان برطانوی کابینہ میں ٹرانسپورٹ کے وزیر رہ چکے ہیں جب کہ برطانیہ میں گذشتہ عام انتخابات میں وہ لیبر پارٹی کی لندن میں انتخابی مہم کے انچارج بھی تھے۔
میئر کے امیدوار کے لیے لیبر پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج کے مطابق صادق خان نے اپنے مدمقابل امیدوار سابق وزیر ٹیسا جوول کو پانچویں راؤنڈ میں شکست دی۔
صادق خان نے مجموعی طور پر 58.9 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ٹیسا جوول نے 41.1 فیصد ووٹ حاصل کر سکیں۔
صادق خان کے مقابلے میں لیبر پارٹی لندن کے دیگر سینیئر رہنماؤں ڈیوڈ لیمی، گیرتھ تھومس، ڈیان ایبٹ اور کرسچن وولمر نے بھی نامزدگی کے انتخاب میں حصہ لیا۔
1970 میں لندن میں پیدا ہونے والے صادق خان کے والدین پاکستان سے ہجرت کر کے برطانیہ آئے تھے۔ ان کے والد بس ڈرائیور تھے اور ان کی ابتدائی پرورش کونسل کی جانب سے فراہم کردہ فلیٹ میں ہوئی تھی۔
صادق خان نے جیت کے بعد کی گئی اپنی تقریر میں اپنے حامیوں سمیت مخالف امیدواروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’لیبر پارٹی کے ممبران اور ان کے حامی، آپ ہماری تحریک کا ہراول دستہ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی مدد سے ہم اگلے سال مئی میں میئر کا انتخاب جیتیں گے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی سینیئر رہنما اور برطانوی پارلیمنٹ کی پاکستانی نژاد رکن، یاسمین قریشی کا کہنا ہے کہ صادق خان کی نامزدگی سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ لندن ایک بین المذاہب اور بین الثقافتی شہر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ صادق خان کی لندن میئر کے امیدوار کے طور پر نامزدگی برطانوی سیاست میں پاکستانی نژاد سیاست دانوں کی کامیابوں کا تسلسل ہے۔
یاسمین نے کہا کہ صادق خان میئر کے انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے لندن کے باسیوں کی زندگی میں اصل اور حقیقی تبدیلی لائیں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ صادق خان کا مقابلہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ کے بھائی اور حکمران کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان زیک گولڈ سمتھ سے ہوگا۔
ٹوری پارٹی نے ابھی تک لندن میئر کے انتخاب کے لیے اپنے حتمی امیدوار کا نام تو پیش نہیں کیا لیکن زیک گولڈ سمتھ کو ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔







