اسرائیل میں عیسائی سکولوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مظاہرہ

اتوار کو ہونے والے مظاہرے میں سکولوں کے بچوں نے بھی شرکت کی
،تصویر کا کیپشناتوار کو ہونے والے مظاہرے میں سکولوں کے بچوں نے بھی شرکت کی

اسرائیل میں وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے مظاہرہ ہوا ہے جس میں مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں عیسائی سکولوں کو زیادہ مالی امداد مہیا کی جائے۔

اسرائیل میں نجی شعبے میں قائم سکولوں کو حکومت کی جانب سے مالی مدد ملتی ہے، تا ہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ مدد یہودی سکولوں کو دی جانے والی مدد کے مقابلے میں کم ہے۔

مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی جانب سے عیسائی سکولوں کی مالی اعانت میں کمی کا مقصد یہ ہے کہ عیسائی بچے سرکاری سکولوں میں جانا شروع کر دیں۔

اسرائیل میں مسیحی گھرانوں کی اکثریت کا تعلق ملک کی عرب اقلیت سے ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل کے 47 عیسائی سکول یکم ستمبر سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال سے ہڑتال پر ہیں۔

مظاہرے میں شامل ایک والد ابراہیم فاخری نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ان کے خیال میں ملک میں عیسائی سکولوں سے زیادتی کی جا رہی ہے۔

’اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے، ہم لوگ ملکی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں اس لیے ہمیں برابر کے حقوق ملنا چاہئیں۔‘

مظاہرے میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے عرب ارکان نے بھی شرکت کی۔

مظاہرے کے جواب میں ملک کے وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ ’باقی غیر سرکاری منظور شدہ سکولوں کی طرح مسیحی سکولوں کو بھی برابر کی مالی مدد دی جاتی ہے۔‘

اخبار یرروشلم پوسٹ کے مطابق حکومتی امداد کے معاملے پر وزارت تعلیم کے نمائندے عیسائی سکولوں کے نمائندوں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔