حماس کا اسرائیلی جاسوس ڈولفن پکڑنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے غزہ کے ساحل کے قریب ایک ڈولفن پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے جو تنظیم کے بقول اسرائیلی جاسوس ہے۔
مقامی اخبار القدس کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ ڈولفن پر جاسوس کے آلات نصب ہیں جن میں کیمرے بھی شامل ہیں۔
بظاہر یہ ڈولفن حماس کے بحری یونٹ نے پکڑی ہے جس کے بعد اسے ساحل پر لایا گیا ہے۔ البتہ حماس کی جانب سے اس ڈولفن کی کوئی تصویر جاری نہیں کی گئی ہے۔
القدس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس ڈولفن کو اس کی مرضی کے خلاف ایک ’قاتل‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔
اخبار کے مطابق اس سے حماس کے بحری جنگی یونٹ کی تشکیل پر اسرائیل کا ’غصہ اور بےچینی‘ بھی ظاہر ہوتی ہے۔
اسرائیلی حکام نے جاسوس ڈولفن پکڑنے جانے کی اطلاعات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
اسرائیل غزہ کی زمینی، بحری اور فضائی سرحدوں کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل پر جانوروں یا پرندوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگا ہو۔
سنہ 2010 میں اسرائیل نے مصر کے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ بحیرۂ احمر میں شارک مچھلیوں کے حملوں کے پیچھے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کے چند ہفتے بعد سعودی عرب میں جی پی ایس ٹرانسمیٹر سے لیس ایک گدھ پکڑا گیا تھا اور اسے بھی موساد کی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔







