انسانوں کے بعد ڈولفن کی یادداشت سب سے اچھی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کے بعد ڈولفن وہ جاندار ہے جس کی یادداشت سب سے طویل ہوتی ہے۔
اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ لمبی یادداشت رکھنے والا جانور ہاتھی ہے۔
<link type="page"><caption> ’ڈولفن ایک دوسرے کو نام سے پکارتی ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/07/130723_dolphins_call_name_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’انسانوں کی طرف ڈالفن کو شخصیت مانا جائے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2012/02/120221_dolphins_rights_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکہ میں محققین کا کہنا ہے کہ بیس سال تک ایک دوسری سے الگ رہنے کے باوجود ڈولفنز اپنے پرانے ساتھیوں کی مخصوص سیٹی دہراتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ طویل المدت یادداشت ڈولفن کے پیچیدہ سماجی روابط کی پیداوار ہے۔
یہ تحقیق ’پروسیڈنگ آف دی رائل سوسائٹی بی‘ میں شائع کی گئی ہے۔
اس تحقیق میں سائنسدانوں نے بوتل جیسی ناک والی چھپّن ڈولفنز کے باہمی تعلقات سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لیا۔ ان ڈولفنز کو افزائش نسل کے لیے امریکہ اور برمودا کے چھ مختلف چڑیا گھروں اور ایکویریمز میں منتقل کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کئی دہائیوں قبل کے ریکارڈز میں یہ درج تھا کہ کون کون سی ڈولفنز ساتھ میں رہی ہیں۔

محققین نے پانی کے اندر لگے سپیکرز پر ان ڈولفنز کی سیٹیوں کی آوازیں نشر کیں گئیں جن کے ساتھ وہاں موجود ڈولفنز ماضی میں رہ چکی تھیں، جس کے بعد ان کے ردِعمل کو جانچا گیا۔
اس مطالعے میں شامل شکاگو یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیسن برک کا کہنا ہے کہ ’جب یہ ڈولفن کسی مانوس آواز کو سنتی ہیں تو یہ نسبتاً زیادہ دیر تک سپیکرز کے پاس رکتی ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا ’ وہ سپیکرز کے ساتھ اپنا رابطہ بحال رکھتی ہیں اور اگر میں کوئی ایسی آواز نشر کروں جس سے وہ غیر مانوس ہیں تو اسے نظر انداز کر دیتی ہیں۔ جانوروں کے رویّوں پر ہونے والے مطالعے میں اتنی مدت تک یادداشت کا پایا جانا ایک غیر معمولی چیز ہے‘۔
ڈاکٹر برک نے دو ڈلفنز ’ایلی‘ اور ’بیلی‘ کا حوالہ دیا جو فلوریڈا میں اس وقت ساتھ تھیں جب وہ نوعمر تھیں۔‘
بیلی اب برمودا میں رہتی ہے، جب اس کے لیے ایلی کی آواز بجائی گئی تو اس نے فوراً ردعمل دیا حالانکہ وہ یہ آواز بیس سال اور چھ مہینے کے بعد سن رہی تھی۔
ڈولفن کے ردِعمل میں پہچان کے عنصر کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر برک نے اسے بوتل جیسے ناک والی اور لگ بھگ اسی عمر اور جنس کی دوسری ڈولفن کی آواز بھی سنوائی۔
محققین کے مطابق ایک ڈولفن میں ماضی کی چیزوں کو دہرانے کی صلاحیت اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ سمندری میمل کی ذہنی پیچیدگی بھی اسی نوعیت کی ہے جیسی انسان، چیمپینزی اور ہاتھی میں ہوتی ہے۔
اس سے پہلے کے اندازوں کے مطابق ہاتھیوں کی یادداشت بیس سال تک رہتی ہے۔ لیکن خاندان سے باہر کے ہاتھیوں کے بارے میں ان کی یادداشت سے متعلق بہت کم شواہد ملے ہیں۔
تاہم ڈولفنز نہ صرف خاندان بلکہ اجنبیوں کو بھی یاد رکھتی ہیں۔
گزشتہ سال دنیا میں سائنسدانوں کی سب سے بڑی کانفرنس میں تجویز کیاگیا تھا کہ سمندری مخلوق ڈالفن اور وہیل کو ’غیر انسانی شخصیت‘ تسلیم کرتے ہوئے اس کی زندگی اور آزادی کو تحفظ ہونا چاہیے۔







