’مجھے دنیا سے اب کچھ نہیں چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ترکی کے ساحل پر مردہ حالت میں ملنے والے تین سالہ بچے آلان کردی کے والد نے مبینہ طور پر کینیڈا کی طرف سے پناہ دینے کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔
آلان اپنے خاندان کے ساتھ یونان جانے کے لیے ایک کشتی پر سوار تھے اور اپنی والدہ، بھائی اور بہت سے دیگر لوگوں کے ساتھ ڈوب گئے تھے۔
لہروں کے ساتھ بہہ کر ترکی کے ساحل پر آنے والی آلان کی لاش کی تصویر نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس نے تارکین وطن کے سنگین مسئلے کو شدت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
اس حادثے میں بچ جانے والے چند افراد میں آلان کے والد عبداللہ کردی بھی شامل ہیں۔
کینیڈا میں رہنے والی ان کی بہن تيما کردی نے بتایا کہ عبداللہ پہلے کینیڈا جانے کا عزم رکھتے تھے لیکن اب وہ شام میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔
تيما کے مطابق عبداللہ نے انھیں بتایا کہ جہاں ان کے دونوں بیٹوں (تین سالہ آلان، پانچ سالہ غالب) اور بیوی (ریحانہ) قبریں ہیں، وہ وہیں رہنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ان کی لاشوں کو شام میں ان کی آبائی قصبے کوبانی بھیج دیا گیا تھا جہاں جمعے کو ان کی تدفین کی گئي۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق تیما نے کہا: ’جو ہوا اس سے ہم جذباتی طور پر بہت متاثر ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: ’وہ کسی بھی حال میں وہاں سے نہیں آنا چاہے گا لیکن میں ایک دن اسے یہاں ضرور لاؤں گی۔ وہ وہاں تن تنہا نہیں رہ سکتا۔‘
تيما کردی نے کہا کہ وہ اپنے دوسرے قریبی رشتے داروں کو بھی کینیڈا لانے کی کوششیں جاری رکھیں گی جہاں وہ دو دہائی قبل جا کر آباد ہوگئی تھیں۔
انھوں نے خود کو اپنے بھتیجوں اور بھابھی کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا: ’اس کی قصور وار میں ہوں۔ اس لیے کہ میرے بھائی کے پاس پیسہ نہیں تھا اور میں نے اسے سمگلروں کو دینے کے لیے پیسے بھیجے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ سفر ہی ان کے لیے ’واحد راستہ‘ بچا تھا جس سے وہ یورپی ممالک جیسے سویڈن یا جرمنی میں بہتر زندگی گزار سکتے تھے۔
تیما نے بتایا کہ ان کے بھائی کو اپنے بچوں پر ناز ہے جنھوں نے شام کے پناہ گزینوں کی حالت زار کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
تیما کے مطابق انھوں نے کہا: ’مجھے دنیا سے اب کچھ نہیں چاہیے۔ میرے پاس جو کچھ تھا وہ نہیں رہا۔ لیکن میرے بچے اور میری بیوی نے دنیا کو متنبہ کردیا ہے۔ امید ہے کہ دنیا اب دوسروں کی مدد کے لیے آگے آئے گی۔‘
عبداللہ کے بیٹوں اور بیوی کی موت کے سلسلے میں ترکی کے حکام نے چار مشتبہ انسانی سمگلروں پر مقدمہ درج کیا ہے۔







