ڈوبنے والے شامی بچے کے باپ کا دکھ

عبداللہ کردی نے اس سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعبداللہ کردی نے اس سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی

ترکی کے ساحل پر لال قمیض پہنے اوندھے منہ پڑے شامی بچے کی تصویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور اس سے شام کے بحران میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔

ترکی کی نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی یہ تصویر پوری دنیا میں دیکھی گئی ہے اور ٹوئٹر پر اس کا ہیش ٹیگ ’انسانیت ساحل پر بہہ کر آ گئی‘ ہے۔

یہ بچہ ان دو کشتیوں میں سے ایک پر سوار تھا جو ترکی سے یونان جانے کی کوشش میں ڈوب گئی تھیں۔

ان کشتیوں میں کل 23 افراد سوار تھے جن میں سے کم از کم 12 ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈوبنے والوں میں پانچ چھوٹے بچے تھے۔ انھیں میں سے ایک آلان کردی تھا جس کی لاش ساحل پر سے ملی۔

آلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی کے سمندر میں جانے کے کچھ منٹ بعد اونچی لہریں اس سے ٹکرانے لگیں اور اسی دوران کپتان چھلانگ لگا کر کشتی سے اتر گیا۔

’میں نے اپنے بچوں اور بیوی کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک جان دیتے گئے۔‘

’میں نے کشتی چلانے کی کوشش کی لیکن ایک اور اونچی لہر نے اسے الٹا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ سب کچھ ہوا۔‘

ترکی کے ساحلی محافظوں کے مطابق تارکینِ وطن بدھ کو علی الصبح ترکی کے بودرم جزیرہ نما سے یونان کے جزیرے کوس جانا چاہتے تھے لیکن کچھ دیر بعد کشتیاں ڈوب گئیں۔

تین سالہ آلان اپنے پانچ سالہ بھائی گیلپ اور ماں ریحان کے ساتھ ڈوب گئے۔ ان کے والد عبداللہ اس حادثے میں بچ گئے۔

اطلاعات کے مطابق عبداللہ نے سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

ایلان کی موت

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتین سالہ ایلان کی موت کو المیہ کہا جا رہا ہے

عبداللہ کی بہن تیما کردی نے، جو کینیڈا کے شہر وینکوور میں رہتی ہیں، کینیڈا کے اخبار نیشنل پوسٹ کو بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے میں ان کی مدد کر رہی تھیں۔

’میں انھیں سپانسر کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہم انھیں وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے وہ کشتی میں گئے۔‘

اطلاعات کے مطابق عبداللہ کو دولتِ اسلامیہ یا کسی اور جہادی تنظیم نے کوبانی کے محاصرے کے دوران اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

کردی خاندان کے پاس اس لیے بھی کوئی اور راستے نہیں بچا تھا کیونکہ ترکی سے نکلنے کے لیے شامی کرد پناہ گزینوں کو پاسپورٹ درکار ہوتا ہے جو بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔