’شامیوں کےلیےہر چیز مشکل ہوگئی ہے‘

نوراور ان کی والدہ شام سے تین سال قبل نکلی تھیں
،تصویر کا کیپشننوراور ان کی والدہ شام سے تین سال قبل نکلی تھیں

بی بی سی کے جیمز رینلڈ، نوجوان شامی تارک وطن خاتون کا پناہ حاصل کرنے کی خاطر ترکی سے سویڈن کے پرخطر سفر کا احوال بیان کرتے ہیں۔

20 سالہ شامی نور عمار کہتی ہیں کہ ’میں اب شام میں مزید نہیں رہنا چاہتی۔ ہم شامیوں کے لیے ہر چیز بہت مشکل ہو گئی ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے یہاں سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یہاں سے جانا ہی ہے۔ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘

نور اور ان کی والدہ اسلام شام کے علاقے دیر الزور سے تین سال قبل نکلی تھیں۔ ان کے والد جو وہیں رہ گئے تھے، کچھ ہی عرصے بعد قتل کر دیے گئے۔ نور اور ان کی والدہ ترکی میں پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

دو سال استنبول میں رہنے کے دوران نور نے آرام دہ زندگی گزاری۔ انھوں نے وہاں ایک ہیئر ٹرانسپلانٹ سیلون اور پھر اس کے بعد ترکی کے سرکاری ٹیلیویژن میں نوکری کی۔ اس دوران انھوں نے ترکی زبان سیکھی، گھڑ سواری کی تربیت لی اور موسم گرما میں اپنے بالوں کو سنہرا رنگ لیا۔

لیکن وہ اس خطے سے دور ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھیں۔ اس لیے انھوں نے سویڈن کے شہر گوتھنبرگ جانے کا فیصلہ کیا، جہاں ان کے بھائی اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے اور جہاں سے وہ سویڈن میں پناہ کے لیے درخواست دے سکتی تھیں۔

ڈاکٹر اور شیطان

نور نے ترکی کے ساحلی علاقے سے شمالی یورپ جانے والے ایک معروف اور جانے پہچانے راستے سے نکلنے کا منصوبہ بنایا۔

سفر کے دوران نور اور ان کے دوستوں کو ہنگری کی سرحد سے دس میل پہلے گاڑی سے اتر کر پیدل چلنا پڑا۔

نور نےازمیر سے یونان کے جزیرے پہچنے کے لیے انسانی سمگلروں کو 200 ڈالر ادا کیے
،تصویر کا کیپشننور نےازمیر سے یونان کے جزیرے پہچنے کے لیے انسانی سمگلروں کو 200 ڈالر ادا کیے

استنبول سے گوتھنبرگ جانے کا 4020 کلومیٹر طویل سفر زمینی اور سمندری راستے پر مشتمل ہے۔ فیس بک پر شامیوں کے ایک گروہ نے اس سفر کے راستے اور خرچے کے بارے میں ایک دوسرے کو مشورے دیے۔ استنبول سے گوتھنبرگ کے سفر کا خرچہ تقریباً 3 ہزار یورو تھا جس میں انسانی سمگلروں کو دی جانے والی رقم بھی شامل تھی۔

15اگست کی صبح نور کی ماں ان کو استنبول کے ہوائی اڈے پر لےگئیں، جہاں سے نور کو ایک مختصر سے ہوائی سفر کے بعد ترکی کے ساحلی شہر پہنچنا تھا۔ نور کے جہاز میں سوار ہوتے وقت ان کی ماں پر گھبراہٹ طاری ہو گئی۔

’انھوں نےمجھے بازو سے پکڑا اور کہا واپس آجاؤ، نہ جاؤ۔‘

’میں نےان سے کہا، ’ماں، پاگل نہ بنو۔‘

’میں رو رہی تھی اور پورے سفر کے دوران مجھے اپنی ماں کے چہرے کے وہ تاثرات یاد آتے رہے۔‘

ترکی کے ساحلی شہر ازمیر پہنچ کر نور اپنے فیس بک کے ان پانچ دوستوں سے ملیں، جن میں ایک کی عرفیت ’ڈاکٹر‘ تھی اور دوسرے نے اپنا نام ’شیطان‘ رکھا ہوا تھا۔

وہاں سے ان لوگوں نے یونان کے جزیرے آگاتھونیسی پہنچنے کے لیے دس میل کا کشتی کا سفر کیا، جس کے لیے انھوں نے انسانی سمگلروں کو فی مسافر 200 ڈالر ادا کیے۔

نور نے بتایا کہ ’کشتی کے اندر ہم سمیت تقریباً 48 افراد تھے۔ ہم نے سمندر کے اندر تین گھنٹے گزارے۔ وہ بہت مشکل سفر تھا۔ سمگلروں نے ہم میں سے ایک شخص کو کشتی چلانا سکھا دی تھی لیکن اس کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اگر کشتی راستےمیں خراب ہوجائے تو کیا کرنا ہے۔‘

لیکن بالآخر کشتی یونان پہنچ گئی۔ تھکن سے چور، یہ پانچ دوست فوراً ہی یونان کے اگلے جزیرے ساموس جانے لیے دوسری کشتی میں سوار ہو گئے، جہاں سے وہ سمندر ہی کے راستے ایتھنز پہنچے۔ ایتھنز سے وہ خشکی کے راستے مقدونیہ کی سرحد پر پہنچے۔ سفر کے دوران تمام ہوٹلوں نے ان کو ٹھہرانے سے انکار کیا۔

نور نے بتایا کہ ’ہم دو سے تین دن تک سڑکوں پر سوتے رہے۔ یہ بہت ہی تکلیف دہ تھا۔ شامی لوگوں کی کوئی عزت نہیں کرتا۔ ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا جیسے ہم کوئی بیماری یا اچھوت ہوں۔‘

مقدونیہ سے ان کا گروہ بس کے ذریعے سربیا کے سرحدی قصبے پریسیوو میں داخل ہوا، جو پہلے ہی پناہ گزینوں سے بھرا ہوا تھا۔ نور نے بتایا کہ ’ہم بہت تھکے ہوئے تھے، بلکہ ہم سب بیمار تھے۔‘

نور نے فیصلہ کیا کہ وہ پناہ گزینوں کے اس گروہ میں شامل نہیں ہوں گی جو آگے جانے کے لیے مقدونیہ کی سفری دستاویزات میں اندراج کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ بالکل نہیں چاہتی تھیں کہ وہ اپنے سویڈن تک کے سفر میں کہیں رکیں اور اپنی انگلیوں کے نشانات جیسی کوئی شناخت دیں۔‘

عام طور پر آپ کو اسی ملک میں رک کر پناہ کے لیے درخواست دینا پڑتی ہے جو سب سے پہلے آپ کا اندراج کرتا ہے۔ لیکن اس قانون پر ہمیشہ عمل نہیں ہوتا اور بہت سے پناہ گزین اپنی شناخت چھپانے کی خاطر جو بن پڑتا ہے، کرتے ہیں۔

وہ سب ایک خواب لگتا ہے

پریسیوو سے نور کا گروہ بس کے ذریعے سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا، جہاں انھیں ایک چھوٹے سے علاقے میں رہنے کی جگہ مل گئی۔ یہ وہ رات تھی جب انھوں نے ہنگری پہنچنے کی کوشش کی جہاں سے یورپی یونین کے شینجین علاقے کا آغاز ہوتا تھا، اورجہاں سے یورپین ممالک کی سرحدوں پر ویزا درکار نہیں ہوتا۔

نور نے رات ٹیلیفون پر بتایا کہ ’اگر ہم اس علاقے میں صحیح سلامت پہنچ گئے تو زبردست کام ہو جائے گا۔ اور اگر ہم نے کہیں اپنی شناخت ظاہر کر دی تو بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔‘

ہیلو، میں ایک شامی پناہ گزین ہوں، میں سویڈن میں پناہ کے لیے درخواست دینا چاہتی ہوں‘
،تصویر کا کیپشنہیلو، میں ایک شامی پناہ گزین ہوں، میں سویڈن میں پناہ کے لیے درخواست دینا چاہتی ہوں‘

اگلے دن علی الصبح سینکڑوں کی تعداد میں تارکینِ وطن اور پناہ گزین ہنگری کے ریلوے ٹریک کے ساتھ آ کر جمع ہوگئے، جہاں ان کو ہنگری کی پولیس سے مل کر اندراج کے عمل سے گزرنا تھا۔ لیکن نور اور ان کے ساتھی کہیں پر بھی اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے ایک ڈرائیور کو 300 یورو دیے جس نے ان کو ہنگری کی سرحد سے دس میل دور لے جا کر چھوڑ دیا۔

اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ ’دراصل میں اس وقت بہت ڈری ہوئی تھی۔ اگر ہم بحفاظت اس سرحد کو عبور کر لیں تو پھر ہم محفوظ ہو جائیں گے۔‘ گروہ نے اپنے بیگ سنبھالے اور رات بھر کے طویل سفر کے بعد وہ سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اس وقت تک گروہ کے زیادہ تر لوگ بیمار پڑ گئے تھے۔

ہنگری میں داخلے کے بعد بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ ان کے گروہ نے وہاں ایک گھر کرائے پر لیا جہاں نور شدید بخار کے باعث بیمار پڑ گئیں۔ وہاں پولیس نے ان کو چھوڑنے کے عوض 50 یوروکی رشوت مانگی۔ اگلے دو دن تک نور شدید بیمار رہیں اور کسی کو بھی فون کرنے سے خوفزدہ رہیں۔ طبیعت بہتر ہونے کے بعد وہ ہنگری سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا آگئیں۔

وہان سے ان کے دوست، جس میں شیطان بھی شامل تھا، جرمنی چلے گئے، وہاں سے انھوں نے نور کو اپنی تصاویر بھیجیں جن میں وہ دکھا رہے تھے کہ اب وہ اچھا کھانا کھانے کے قابل ہیں۔

نور کو اپنی آخری منزل گوتھنبرگ کی طرف اکیلے ہی جانا پڑا۔ اس مرحلے پر بھی جبکہ وہ نسبتاً محفوظ یورپ میں تھیں، اپنے ریل کے سفر کے دوران پولیس چیکنگ سے خوفزدہ تھیں۔ انھوں نے تبھی سکون کا سانس لیا جب اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے آخری سرحد بھی عبور کر لی۔

ڈنمارک اور سویڈن کی سرحد کے درمیان آبنائے اوریسند حائل ہے جس پر کسی بھی قسم کی چیکنگ نہیں ہے، اور پھر ٹرین دونوں ملکوں کے درمیان نہر کے اوپر بنے پل پر چڑھ گئی۔

سامنے بیٹھا ہوا ایک 18 سالہ طالبعلم گستاؤ اپنے موبائل کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ ’یہ ٹرین کے سویڈن میں آتے ہی بند ہو جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہم سویڈن پہنچ گئے ہیں۔‘

نور نے چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا کہ ’آخر کار، ہم اپنے منزل پر پہنچ گئے۔‘

سویڈن پہنچ کر نور نے سب سے پہلے ترکی میں مقیم اپنی ماں کو فون کیا
،تصویر کا کیپشنسویڈن پہنچ کر نور نے سب سے پہلے ترکی میں مقیم اپنی ماں کو فون کیا

’وہ سب ایک خواب کی طرح تھا۔ تمام راستے میں جب بھی کھڑکی سے باہر دیکھتی تھی تو اپنے آپ سے کہتی تھی کہ میں کہاں ہوں؟ کیا یہ سب حقیقت ہے؟ کیا میں واقعی سویڈن جا رہی ہوں؟‘

پناہ کی اپیل

وہاں سے انھوں نے موبائل سے اپنی ماں کو پیغام بھیجا کہ وہ سویڈن پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ اس کے فوراً بعد ہی ان کا فون دوبارہ بجا۔ یہ ان کی ماں کا فون تھا جو تصدیق کر رہی تھیں کہ وہ واقعی سویڈن پہنچ گئی ہیں۔

’ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ میں سویڈن میں ہوں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں یقین ہےکہ تم سویڈن میں ہو؟‘ ترکی سے لے کر اب تک دو ہفتوں اور 13 گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد شام کے تقریباً ساڑھے چھ بجے ٹرین گوتھنبرگ کے مرکزی سٹیشن پر پہنچ گئی۔

نور آخر اپنے مرضی سے چنے گئے ملک میں پہنچ گئیں۔ وہ اپنی پناہ کی درخواست کے ابتدائی الفاظ بالکل صحیح ادا کرنا چاہتی تھی۔ اس کے لیے ان کے بھائی نے فون پر لکھ کر بھیج دیا تھا کہ ان کو وہاں پولیس سے کیا کہنا ہے۔

انھوں نے وہ الفاظ باربار دہرائے اور ایک قریبی پولیس سٹیشن پہنچ گئیں۔ انھوں نے انٹر کام کا بٹن دبایا اور اندر چلی گئیں۔

’ہیلو، میں ایک شامی پناہ گزین ہوں۔ میں سویڈن میں پناہ کے لیے درخواست دینا چاہتی ہوں۔‘