’سونے سے لدی گمشدہ ریل گاڑی مل گئی‘

پولینڈ میں دو افراد نے سرعام دعویٰ کیا ہے کہ انھیں نازی جرمنی دور کی سونے سے لدی ہوئی گمشدہ ریل گاڑی کا سراغ مل گیا ہے۔
اینڈریاس رِکٹر اور پیوٹر کوپر نامی افراد نے یہ دعویٰ جمعے کو پولینڈ کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ’ٹی وی پی‘ کے ایک پروگرام میں کیا۔
اس سے قبل دونوں افراد یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کے پاس ’ناقابل تردید‘ ثبوت موجود ہیں کہ انھیں سونے سے لدی ہوئی ریل گاڑی کا سراغ مل گیا ہے، لیکن وہ ابھی تک اپنے دعوے کا کوئی واضح ثبوت دینے میں ناکام رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں میں ان دو افراد کے دعوے کے بعد سے پولینڈ کے سرکاری حکام اس پر اپنے شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم حکام کا کہنا تھا کہ جمعے کو فوج کے اہلکاروں نے اس مقام کا معائنہ کیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ گمشدہ گاڑی وہاں موجود ہے۔
گذشتہ ہفتے ملک کے نائب وزیر برائے ثقافت پیوٹر زوکاسکی نے کہا تھا کہ انھیں ’99 فیصد یقین‘ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فوج کی ایک ریل گاڑی پولینڈ کے جنوب مغربی شہر والبرزچ کے قریب مٹی کے نیچے دب گئی تھی۔
والبرزچ کے علاقے میں یہ کہانی ایک عرصے سے مشہور ہے کہ سنہ 1945 میں جرمن فوج کی ریل گاڑی شہر کے قریبی علاقے میں گم گئی تھی جو کہ سونے، خزانے اور بندوقوں سے لدی ہوئی تھی۔
جمعے کو نجی چینل سے بات کرتے ہوئے جرمن شہری مسٹر رِکٹر اور پولینڈ کے رہائشی مسٹر کوپر کا کہنا تھا کہ انھوں نے پولینڈ کے ریاستی حکام کو اپنی دریافت کے بارے میں ’قانونی طور پر ‘ بتا دیا ہے اور انھوں نے وزیرِ ثقافت اور پولیس کی موجودگی میں ریاستی حکام کو اس مقام کی نشاندھی بھی کر دی ہے جہاں یہ ریل گاڑی زمین میں دھنسی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
مسٹر کوپر کا کہنا تھا کہ ان کے اس دعوے کی بنیاد عینی شاہدین کے بیانات اور خود ان کی تحقیق سے ہوتا ہے۔ ان کے بقول ریل گاڑی کا کھوج لگانے کے لیے انھوں نے خود اپنے اوزار استعمال کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر کوپر کا اصرار تھا کہ ’ذرائع ابلاغ میں جو شور و غوغا‘ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری ان دونوں پر نہیں ڈالی جا سکتی کیونکہ انھوں نے سرکاری حکام سے رازداری میں بات کی تھی جو بعد میں ذرائع ابلاغ تک پہنچ گئی۔
مسٹر کوپر اور مسٹر رکٹر کی خواہش ہے کہ گمشدہ ریل گاڑی سے جو دولت ملے گی، اس کا دس فیصد ان دونوں کو دیا جائے کیونکہ ریل گاڑی کا سراغ ان دونوں نے لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس رقم سے اس مقام پر ایک عجائب گھر بنائیں گے جہاں ریل گاڑی دفن ہے۔
لوک کہانی
جمعے کو پولینڈ کے نجی چینل کا کہنا تھا کہ پہلے لوگوں کا خیال تھا کہ مذکورہ ریل گاڑی کسی سرنگ میں پھنسی ہوئی ہے، لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ ریل گاڑی اصل میں زمین میں دفن ہے۔

،تصویر کا ذریعہepa
والبرزچ کے علاقے کی ایک لوک کہانی کے مطابق جنگ عظیم دوئم کے آخری دنوں میں جب سوویت فوجیں موجودہ پولینڈ کے شہر وراکلا کے ارد گرد اپنا گھیرا تنگ کر رہی تھیں، ان دنوں میں شہر سے ایک ریل گاڑی روانہ ہوئی تھی جس پر بیشمار خزانہ لدا ہوا تھا۔
لوک کہانی کے مطابق یہ گاڑی والبرزچ سے محض دو میل دور کسی مقام پر گم ہو گئی تھی۔
رواں ہفتے کے اوائل میں پولینڈ کے نائب وزیرِ ثقافت نے ایک بیان میں عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک ریل گاڑی کی تلاش سے پرہیز کریں جب تک تلاش گمشدہ کا سرکاری عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ عین ممکن ہے کہ اس مقام پر دوسرا خطرناک اور دھماکہ خیز مواد بھی موجود ہو اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذکورہ ریل گاڑی اصل میں مخالف فوج کو پھانسنے کا کوئی منصوبہ ہو۔‘







