ورجینیا کے دو صحافیوں کا قاتل بھی ہلاک ہو گیا

،تصویر کا ذریعہWDB7
امریکی ریاست ورجینیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ٹی وی کی لائیو نشریات کے دوران دو صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے والا مشتبہ شخص نے واقعہ کے بعد خود کو بھی مار لی تھی، ہلاک ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے فائرنگ کر کے خود کو زخمی کر لیا تھا۔
پولیس نے ڈبلیو ڈی بی جے 7 نامی مقامی چینل کے سابق ملازم ویسٹر لی کی گاڑی کا پیچھا کر کے اسے گرفتار کیا۔
مسلح شخص نے بعد میں اپنی ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں اسے قریب سے خود پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فائرنگ کے اس تازہ واقعہ کے بعد کانگریس سے اسلحہ کنٹرول کرنے کے قوانین کو جلد پاس کرنے کرنے پر زور دیا ہے۔
ورجینیا پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کی گاڑی کو انٹر سٹیٹ 66 ہائی وے پر جاتے دیکھا گیا اور تعاقب کے دوران اس کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ورجینیا پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب پولیس مشتبہ شخص کی گاڑی کے قریب پہنچی تو اسے وہ شخص گاڑی میں زخمی حالت میں ملا۔
واضح رہے کہ امریکی ریاست ورجینیا بدھ کی صبح ٹی وی کی لائیو نشریات کے دوران دو صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈبلیو ڈی بی جے 7 نامی مقامی چینل نے اپنے دو ملازمین کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 24 سالہ ایلیسن پارکر اور 27 سالہ کیمرہ مین ایڈم وارڈ بیڈفرڈ کاؤنٹی کے علاقے مونیٹا میں ایک انٹرویو کے دوران مارے گئے۔
یہ واقعہ بدھ کی صبح سمتھ ماؤنٹین نامی جھیل کے قریب واقع ایک بڑے شاپنگ سینٹر برج واٹر پلازہ میں پیش آیا۔
چینل پر چلنے والی فوٹیج میں ایلیسن پارکر کو انٹرویو کا آغاز کرتے دیکھا جا سکتا ہے جب اچانک آٹھ گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، پھر کیمرہ گھومتا ہے اور زمین پر جا گرتا ہے اور چیخنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
ٹی وی سٹیشن کا کہنا ہے کہ جس خاتون کا انٹرویو کیا جا رہا تھا وہ اس حملے میں محفوظ رہیں تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہ زخمی ہیں۔
ٹی وی چینل کے جنرل مینیجر جیفری مارکس نے ٹی وی پر آ کر دونوں افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایلیسن اور ایڈمز صبح پونے سات بجے گولیاں چلنے کے نتیجے میں مارے گئے۔ ہم فی الحال ان ہلاکتوں کے محرکات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘
اس کے کچھ دیر بعد ورجینیا کے گورنر ٹیری میکالف نے ایک مقامی ریڈیو سٹیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور بظاہر ٹی وی چینل کا سابقہ ملازم معلوم ہوتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں اور جرم کی واردات ہے۔‘







