سونے سے لدی نازی ٹرین دریافت کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
پولینڈ کے میڈیا کے مطابق دو مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے دوسری جنگِ عظیم میں لاپتہ ہو جانے والی نازیوں کی وہ ٹرین دریافت کی ہے جس کے متعلق افواہ ہے کہ اس پر سونا، جواہرات اور بندوقیں لدی ہوئی ہیں۔
خیال ہے کہ ٹرین حالیہ پولینڈ کے شہر وارکلو کے قریب لاپتہ ہوگئی تھی جس پر سوویت فوج نے 1945 میں قبضہ کر لیا تھا۔
جنوب مشرقی پولینڈ کی ایک قانونی فرم کا کہنا ہے کہ اسلحے اور سونے سے لدی ٹرین کی کھوج لگانے والے دو افراد نے ان سے رابطہ کیا ہے۔
پولینڈ کے میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ سُراغ رساں ٹرین میں موجود سامان کا دس فیصد بطور کمیشن مانگ رہے ہیں۔
مقامی ویب سائٹوں کا کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر کسائز محل کے قریب سونے اور جواہرات سے لدی ہوئی ایک ٹرین کے لاپتہ ہونے سے متعلق عوامی حکایتوں سے بھی ملتی جُلتی اطلاعات ملتی ہیں۔
کسائز محل سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ویل برزگ کے ایک قانونی دفتر میں اس ٹرین کے متعلق دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔
ویل برزگ کے ضلعی کونسل کی ایک اہلکار ماریکا ٹوکارسکا نے روئٹرز کو بتایا کہ ’وکلا، پولیس اہلکار اور فائر بریگیڈ اس سے نمٹ رہے ہیں۔ علاقے کی اس سے پہلے کبھی کھدائی نہیں کی گئی اور ہم نہیں جانتے کہ ہمیں کیا مل سکتا ہے۔‘
ویل برزک کی دو ویب سائٹوں کا کہنا ہے کہ ملنے والی ٹرین کے ایک جانب توپیں اور مینار نصب ہیں۔ ایک ویب سائٹ ویل برزگ 24 ڈاٹ کام نے بتایا کہ ایک شخص کا تعلق پولینڈ سے جبکہ دوسرے کا جرمنی سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور ویب سائٹ ویاڈوموسکی ویل برزیسکی کا کہنا ہے کہ ٹرین 150 میٹر لمبی تھی اور اس میں 300 ٹن سے زیادہ سونا لدا ہوا ہو سکتا ہے۔
ویل برزک کے علاقے کے متعلق کام کرنے والی ایک مورخ جوائننا لیمپارسکا نے وارکلو کے ایک ریڈیو سٹیشن کو بتایا کہ ٹرین کے متعلق افواہ ہے کہ وہ ایک سُرنگ میں غائب ہوگئی تھی جس میں سونا اور ’خطرناک مواد‘ تھا۔
وارکلو کے ریڈیو کا کہنا ہے کہ اسی علاقے میں ماضی میں ٹرین کے لیے کی جانے والی تلاش بےسود ثابت ہوئی تھی۔







