’ابوبکر بغدادی نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی حکام نے اے بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ شام میں یرغمال بنائی گئی ایک امریکی امدادی کارکن کائلہ مولر کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
کائلہ مولر کی ہلاکت کی تصدیق فروری میں ہوئی تھی۔
<link type="page"><caption> ’بار بار ریپ کیا گیا، اذیت دی گئی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/07/150715_is_women_slaves_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ہم ’دولتِ اسلامیہ‘ کو کتنا جانتے ہیں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150522_is_structure_as" platform="highweb"/></link>
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 26 سالہ کائلہ مولر کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے تسلسل سے ریپ کیا۔
انسداد دہشت گردی کے حکام نے ان کے خاندان کو جون میں اس تشدد کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ کائلہ مولر کو سنہ 2013 میں شام کے شہر حلب سے اغوا کیا گیا تھا، دولت اسلامیہ کا دعویٰ تھا کہ ان کی ہلاکت اردن کے فضائی حملے میں ہوئی جبکہ امریکہ ان کی ہلاکت کا الزام دولت اسلامیہ پر عائد کرتا ہے۔
کائلہ مولر کے والدین کارل اور مارشا نے اے بی سی نیوز کو بتایا: ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ کائلہ پر تشدد کیا گیا، اور یہ کہ وہ بغدادی کی ملکیت تھی۔ ہمیں حکومت کی جانب سے جون میں اس بارے میں بتایا گیا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے بی سی نیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ بغدادی ذاتی طور امدادی کارکن کو دولت اسلامیہ کے ایک اور سینیئر رکن ابو سیاف کے گھر لے گئے، جو مئی میں امریکی سپیشل فورسز کی کارروائی میں ہلاکت تک دولت اسلامیہ کے تیل اور گیس کے انچارج تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
اے بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ بغدادی باقاعدگی سے اس احاطے میں جاتے تھے جہاں کائلہ کو یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا اور ان سے جنسی زیادتی کرتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ معلومات کم از کم دو نوجوان یزیدی لڑکیوں سے حاصل کی ہیں جنھیں ابوسیاف کے احاطے میں جنسی غلام بنا کر رکھا گیا تھا اور امریکی حملے کے وقت وہ وہاں موجود تھیں۔
مبینہ طور پر کائلہ مولر کچھ عرصہ تک ابوسیاف اور ان کی اہلیہ ام سیاف کی زیرحراست رہیں۔ مئی میں امریکی سپیشل فورسز کی کارروائی کے دوران ام سیاف کو بھی گرفتار کر لیاگیا تھا۔
اس وقت پینٹاگون کا کہنا تھا کہ ام سیاف مشتبہ طور پر دولت اسلامیہ کی رکن ہیں اور یزیدی خواتین کو غلام بنانے کے عمل میں شریک ہیں۔
واضح رہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو شمالی عراق میں دولت اسلامیہ کے زیر اثر علاقوں سے اغوا کر لیا گیا تھا جن میں بڑی تعداد یزیدی خواتین کی تھی۔
انسداد دہشت گردی کے ایک اہلکار نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ان یزیدی لڑکیوں سے حاصل ہونے والی معلومات امریکہ نے ابوسیاف کی بیوی سے تفتیش کے دوران استعمال کیں جنھوں نے ’سب کچھ‘ بتا دیا، جن میں دولت اسلامیہ کے رہنماؤں اور ان کی موجودگی کے بارے میں معلومات بھی شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ ہفتے ام سیاف کو مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے کرد حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
کائلہ مولر کے حوالے سے حالیہ معلومات اس سے قبل حاصل ہونے والی معلومات کے متضاد ہیں، جب سنہ 2014 میں ان کے خاندان کو ایک خفیہ طور پر لکھے گئے خط میں بتایا گیا تھا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔
اس خط میں انھوں نے اپنے خاندان کو باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ ان کے ساتھ اچھا سکوک کیا جا رہا ہے۔
امریکی ریاست ایریزونا کے شہرپروسکوٹ سے تعلق رکھنے والی امدادی کارکن کائلہ مولر سنہ 2012 میں ترکی اور شام کی سرحد پر پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے گئی تھیں۔







