چین تیانجن دھماکے: متعدد ہلاک، سینکڑوں زخمی، کیمیکل ٹیم روانہ

،تصویر کا ذریعہReuters
چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن میں ہونے والے دو دھماکوں کے بعد آتش گیر مواد کا جائزہ لینے کے لیے فوج کی خصوصی کیمیکل ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ رہی ہے۔ گودام میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 700 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
بدھ کی رات صنعتی بندرگاہ کےگودام میں ہونے والے دھماکوں سے اردگرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور پورٹ پر موجود ہزاروں گاڑیاں اور کنٹینر تباہ ہو گئے۔ STY40044628چین: تیانجن دھماکوں میں ہلاکتیں 50 ، 700زخمیچین: تیانجن دھماکوں میں ہلاکتیں 50 ، 700زخمیچین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن میں ہونے والے دو دھماکوں میں فائر فائٹرز سمیت کم سے کم50 افراد ہلاک اور 700سے زائد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ صدر شی جن پنگ نے واقعے کی جامع تحقیقات کر کے نتائج عوام کے سامنے لانے کا اعلان کیا ہے۔2015-08-13T00:12:48+05:002015-08-13T00:38:32+05:002015-08-13T10:52:33+05:002015-08-13T17:45:59+05:00PUBLISHEDurtopcat2
دھماکوں کی وجہ سے تقریباً 3500 افراد عارضی پناہ گاہوں میں رات گزار رہے ہیں۔
ابھی تک دھماکوں کا سبب معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ پتہ چلا ہے کہ کیا گودام میں موجود کیمیکل کا اخراج دھماکوں کی وجہ بنا؟
سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق دھماکوں کے 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی امدادی کارکن زخمیوں کو بچانے اور آگ پر قابو پانے کے لیے دن رات کوشش کر رہے ہیں۔
بندرگاہ پر دھماکے رواہی لوجیسٹکیس کمپنی کے گودام میں ہوئے۔ یہ کمپنی سوڈیم سئینائیڈ جیسے زہریلے کیمیکل کی نقل و حمل کا کام کرتی ہے۔
چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے دی پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن گودام میں موجود 700 ٹن سوڈیم سئینائیڈ کا ذخیرہ ختم کر رہی ہے اور اس کام کے لیے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اسعتمال کر کے کیمیکل کو ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تیانجن پورٹ گروپ کمپنی کا کہنا ہے کہ اُس کے درجنوں ملازمین لاپتہ ہیں جبکہ دھماکے کے بعد آگ بجھانے میں مصروف کئی فائر فائیٹرز بھی لاپتہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کنٹینروں میں ابھی بھی آگ لگی ہوئی ہے اور ہلاک ہونے والوں میں 17 فائر فائیٹرز بھی شامل ہیں۔
پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق بدھ کو رات 11:30 بجے ہوا اور اُس کے تقریباً 30 سیکنڈ کےبعد دوسرا دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آوازیں کئی کلومیٹر تک سنی گئیں اور دھماکے کے بعد شعلے کو خلا سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔
بندرگاہ کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا ہے کہ کنٹینرز موڑ گئے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھ گئے ہیں۔ بندرگاہ پر کھڑی قطار در قطار گاڑیاں ملبے میں تبدیل ہو گئی ہیں۔
جائے وقوعہ کے قریب ہی ایک فیکٹری کے سکیورٹی گارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھڑکتی ہوئی آگ دیکھی۔ ’اچانک میں نے زوردار آواز سنی۔ میں فوری زمین پر لیٹ گیا لیکن پھر بھی میں زخمی ہو گیا۔‘
زخمی ہونے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ دھماکہ کے وقت اُن کا دماغ بالکل سُن ہو گیا تھا۔ ’میرا سب سے پہلا ردعمل یہ تھا کہ میں بھاگا۔ میں نے ایک اور دھماکہ سنا۔ میں بھاگ رہا تھا اور میرا پورہ جسم خون سے لت پت تھا۔

،تصویر کا ذریعہf
بی بی سی چائنا کے ایڈیٹر ریمنڈ لی کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ روز قبل ہی حکومتی اہلکاروں نے بندرگاہ کا دورہ کیا تھا تاکہ حفاظتی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے مثاثرہ افراد کو بچانے کے لیے ’تمام کوششیں‘ کرنے پر زور دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اس واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں گی اور ان کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں۔







