کیا جسم فروشی کو قانونی بنا دینا چاہیے؟

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے بھی ایمنیسٹی کو اپنا موقف بدلنے کے سلسلے میں انتہائی احتیاط سے کام لینے کے لیے کہا ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنسابق امریکی صدر جمی کارٹر نے بھی ایمنیسٹی کو اپنا موقف بدلنے کے سلسلے میں انتہائی احتیاط سے کام لینے کے لیے کہا ہے
    • مصنف, نائیمو گرملی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کہ آزاد خیال تصور کیے جانے والا اخبار گارڈیئن ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔

مگر گذشتہ ہفتے انھوں نے انسانی حقوق کی اس تنظیم کے خلاف ایک دھواں دھار اداریہ شائع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمنیسٹی نے اگر جسم فروشی کو قانونی بنانے کی کوشش کے لیے مہم چلائی گی تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔

ایمنیسٹی کی انٹرنیشنل کونسل منگل کو اس بارے میں فیصلہ کرنے والی ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی اپنی کونسل کے لیے تجاویز پر مبنی ایک داخلی خفیہ پالیسی پیپر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد صرف گارڈیئن ہی نہیں بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور معروف اداکارائیں بھی تنظیم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے بھی تنظیم کو اپنا موقف بدلنے کے سلسلے میں انتہائی احتیاط سے کام لینے کے لیے کہا ہے۔

جسم فروشی کو قانونی بنانے کے حق میں دلائل

ایمنیسٹی کے منظرِ عام پر آنے والے پالیسی پیپر کے مطابق جسم فروشی کو غیر قانونی بنانا انسانی حقوق کے اُس اصول پر مبنی ہونا چاہیے جس کے تحت دو بالغ افراد کے درمیان اتفاقِ رائے کے ساتھ ہونے والے کسی بھی جنسی عمل کو ریاستی مداخلت سے تحفظ حاصل ہوتا ہے، جب تک اس میں تشدد یا نابالغوں کے ساتھ زیادتی یا کسی غیر قانونی عمل کا عنصر شامل نہ ہو۔

جسم فروشی کو قانونی بنانے کے حق میں بات کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس سے جسم فروشی کے بارے میں معاشرے میں موجود بدنامی کا داغ ہٹ جائے گا، جس سے اس صنعت میں کام کرنے والے افراد کے لیے تشدد کے سلسلے میں پولیس کے پاس جانے میں آسانی ہو گی۔

دنیا بھر میں بہت سی تنظیمیں ہیں جن کا موقف ہے کہ جسم فروشی کو قانونی تحفظ ملنا چاہیے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں بہت سی تنظیمیں ہیں جن کا موقف ہے کہ جسم فروشی کو قانونی تحفظ ملنا چاہیے

اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ قانونی ہو جانے کے بعد جسم فروشوں کے لیے ممکن ہو گا کہ وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ محفوظ جنسی عمل کے بارے میں کھل کر بات چیت کر سکیں۔

دنیا بھر میں ایسی بہت سی تنظیمیں ہیں جن کا موقف ہے کہ جسم فروشی کو قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ ’دربار‘ نامی ایک ایسی ہی تنظیم بھارت میں بھی موجود ہے۔

جرمنی، نیوزی لینڈ اور ہالینڈ ان ممالک میں شامل ہیں جہاں جسم فروشی قانونی ہے۔

جرمنی نے 2002 میں جسم فروشی کو اس امید پر قانونی قرار دیا تھا کہ اس سے یہ صنعت زیادہ پیشہ ورانہ ہو جائے گی اور کسی بھی پیشے کی طرح جسم فروشوں کو بھی پینشن اور صحت کے بیمے جیسی سہولیات میسر آ سکیں گی۔

جرمنی میں ایک سابق جسم فروش اور قحبہ خانے کی مالکن فیلسیٹاس شراؤ کا کہنا ہے کہ 2002 میں بننے والے اس قانون سے جسم فروشوں میں خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’قحبہ خانوں کے مالکان بہتر انداز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، اور وہاں کام کرنے والی خواتین یہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ انھوں نے کس کے پاس ملازمت کرنی ہے جہاں وہ بہتر محسوس کرتی ہوں۔‘

جسم فروشی کو قانونی نہ بنانے کے لیے دلائل

مگر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جرمنی کی جانب سے کیا جانے والا یہ تجربہ ناکام ہو گیا ہے کیونکہ سہولیات حاصل کرنے کے لیے انتہائی کم تعداد میں جسم فروش خواتین اندراج کروا سکی ہیں۔

انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی کے درمیان تعلق کا تعین کرنا مشکل ہے
،تصویر کا کیپشنانسانی سمگلنگ اور جسم فروشی کے درمیان تعلق کا تعین کرنا مشکل ہے

اس کے علاوہ اس اقدام کے خلاف ایک مقبول تنقید یہ ہے کہ اس سے جنسی سیاحت کو فروغ ملا ہے اور اس بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے انسانی سمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی کے درمیان تعلق کا تعین کرنا مشکل ہے، تاہم 150 ممالک میں جسم فروشی کے قوانین پر مبنی ایک تجزیے کے مطابق جسم فروشی کے نرم قوانین انسانی سمگلنگ کی شرح بڑھا دیتے ہیں۔

دیگر لوگ جرمنی میں رومانیہ اور بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو جرمنی کی شاہراہوں پر اور قحبہ خانوں میں کام کرنے لگی ہیں۔ 2013 میں اخبار در شپیگل کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کیسے یہ خواتین اپنی مرضی سے جرمنی کے بڑے شہروں کا رخ کرتی ہیں مگر پھر مسائل میں پھنس جاتی ہیں۔

خواتین کی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کو قانونی کرنے سے فائدہ صرف دلالوں کو ہو گا۔

سکینڈی نیویا کا طریقہ کار

خواتین کے تحفظ اور ان کی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ایک بنیادی بات یہ ہے کہ زیادہ تر جسم فروش خواتین اس معاملے میں متاثرہ فریق ہیں اور وہ اپنا جسم صرف پیٹ پالنے کے لیے بیچتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جسم فروشی اور انسانی سمگلنگ کے درمیان گہرا تعلق ہے۔

ان کی رائے میں بہترین طریقہ سکینڈی نیویا میں اختیار کیا گیا ہے، جہاں پولیس جسم فروشوں کو پکڑنے کے بجائے ان کے گاہکوں کو پکڑتی ہے اور انہی پر جرمانے اور قید کی سزائیں عائد کرتی ہے، جبکہ جسم فروشوں کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس صنعت کی مانگ ختم کی جائے۔

1999 میں سویڈن نے یہی پالیسی اپنائی تھی اور اب کئی ممالک نے اسے اختیار کر لیا ہے جن میں شمالی آئرلینڈ، ناروے اور کینیڈا شامل ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ بھی چاہتی ہے کہ اس کے اراکین ممالک پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔

خواتین کی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کو قانونی کرنے سے فائدہ صرف دلالوں کو ہو گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخواتین کی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کو قانونی کرنے سے فائدہ صرف دلالوں کو ہو گا

برطانیہ میں بھی کچھ اراکینِ پارلیمان کا خیال ہے کہ ملک میں اس بارے میں پیچیدہ قوانین کو ہٹا کر اس پالیسی کو اپنا لیا جانا چاہیے۔

مگر اس پالیسی کے بھی ناقدین موجود ہیں۔ ڈاکٹر جے لیوی کا کہنا ہے کہ انھوں نے سویڈن کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے اور وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ اس سے جسم فروشی میں کمی آئی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ سویڈن میں جسم فروشی زیادہ خفیہ مقامات پر منتقل ہوگئی ہے جس سے اس سے منسلک خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اس سے بنیادی طور پر صرف خطرہ بڑھتا ہے۔ چونکہ گاہکوں کو خطرہ ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنے بارے میں ایسی کوئی معلومات نہیں دیتے جس سے ان کا پتہ چل سکے اور معاملہ طے کرنے کے وقت میں کمی کی وجہ سے جسم فروشوں کے پاس صورت حال کا جائزہ لینے کا موقع ہی نہیں ہوتا۔‘

ایمنیسٹی انٹرنیشنل میں موجود لوگ جو جسم فروشی کو قانونی بنانا چاہتے ہیں اور ان کے مخالفین دونوں کا ہی کہنا ہے کہ وہ جسم فروشوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔

مگر دونوں کا راستہ مختلف ہے۔ اب دونوں تو درست نہیں ہو سکتے۔