جاپان کے ’اژدھا درخت‘ کو محفوظ کرنے کا فیصلہ

 اس درخت کو مکمل طور پر بحال کر کے جنوری سنہ 2016 تک دوبارہ ساحلِ سمندر پر لگا دیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن اس درخت کو مکمل طور پر بحال کر کے جنوری سنہ 2016 تک دوبارہ ساحلِ سمندر پر لگا دیا جائے گا

جاپان میں اس درخت کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو 2011 میں تباہ کن سونامی کے بعد اژدھے کی طرح دکھائی دینے لگا تھا۔

جاپان کے ساحلی شہر کسننومین میں یہ درخت عدم توجہی کے باعث اب گل سڑ رہا ہے۔

شہر میں آنے والی سونامی کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے اور یہ درخت ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے اژدھے کی مانند دکھائی دینے لگا تھا۔

اس درخت کی کوئی شاخ نہیں بچ سکی تھی اور اس کے بعد سے یہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

جاپان کی شِمبن ویب سائٹ کے مطابق یہ درخت رواں ہفتے گلنے کی وجہ سے گر گیا تھا لیکن مقامی حکومت تقریباً دو لاکھ ڈالر خرچ کر کے اس درخت کو محفوظ بنانے اور اسی مقام پر دوبارہ لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق درخت کو دوبارہ گرنے سے بچانے کے لیے اس کے تنے کے اندر سٹیل لگایا جائے گا اور اس کے اژدھے کے سر سے مشابہت رکھنے والے حصے کو مضبوط پلاسٹک سے دوبارہ تیار کیا جائے گا۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس درخت کو مکمل طور پر بحال کر کے جنوری سنہ 2016 تک دوبارہ ساحلِ سمندر پر لگا دیا جائے گا۔

واضع رہے کہ جاپان کے ہی ایک اور شہر ’ریکوزٹاکٹا‘ جہاں سونامی تقریباً 70 ہزار درختوں کو بہا لے گئی تھی وہاں بھی ساحلِ سمندر پر بچ جانے والے واحد درخت کو بچانے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا گیا تھا۔

ریکوزٹاکٹا میں واقع اس درخت کی جڑیں سنہ 2012 میں سمندر کے کھارے پانی کے باعث گل سڑ گئی تھی لیکن شہری حکومت کے حکام نے لوگوں سے چندہ اکھٹا کر کے اس کے تنے کے اندر سٹیل لگانے کے ساتھ اس پر مصنوی شاخیں اور پتے بھی لگائے تھے۔