ملائیشیا کے نائب وزیر اعظم عہدے سے برطرف

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے ملک میں جاری مالیاتی سکینڈل کے پیشِ نظر نائب وزیراعظم کو برخاست کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ نائب وزیراعظم محی الدین یاسین نے سرکاری انوسٹمنٹ فنڈ کے سلسلے میں لگائے جانے والے الزامات پر نجیب رزاق پر تنقید کی تھی کہ انھوں نے اس سکینڈل کو صحیح سے ہینڈل نہیں کیا۔
نجیب رزاق نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ایک ایم بی ڈی (ملائیشیا ڈیولپمنٹ برہد) فنڈ سے 70 کروڑ ڈالر ان کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اس معاملے کی جانچ کرنے والے اٹارنی جنرل غنی پٹیل کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ملائیشیا کی برناما نیوز ایجنسی کے مطابق انھیں صحت کی خرابی کے باعث ہٹایا گیا ہے۔
کوالالمپور میں بی بی سی کے نمائندے جینیفر پاک کا کہنا ہے کہ ان تازہ پیش رفت کے پیش نظر ملائیشیا کے باشندوں کو سکینڈل کا سچ سامنے آنے کے بارے میں خدشات ہیں۔
ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ ہر چند کہ اس سے وزیراعظم نجیب رزاق کو کچھ وقت مل گیا ہے تاہم ان پر دباؤ ہے اور حزب اختلاف اور ان کی اپنی پارٹی کی جانب سے بہت سے سوالات ہیں۔
ان کے مطابق نجیب رزاق نے اپنے حامیوں کی مدد سے کابینہ کو داؤ پر لگایا ہے اور ایک ایم بی ڈی فنڈ پر اپنے ناقدین کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے دور اقتدار کے چھ سالوں میں ان کے لیے یہ سب سے بڑا بحران ہے۔ الزامات کی تردید کےباوجود سوالات اٹھ رہے ہیں اور عوام جواب چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
تجزیہ نگار اوہ ایی سن کا کہنا ہے اس تبدیلی سے عارضی طور پر دباؤ کم ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی وزیر اعظم کو حزب اختلاف کی جماعتوں اور خود اپنی پارٹی میں بطور خاص ان کے سابق منٹر ماثر محمد کی جانب سے شدید جانچ کا دباؤ ہے۔
خیال رہے کہ ملائیشیا میں سیاست میں مالیاتی سکینڈل کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن موجودہ سکینڈل میں جو کثیر رقم شامل ہے اس کی وجہ سے ملائیشیا کے باشندے اسے نظر انداز نہیں کر پا رہے ہیں اور وہ بھی ایسے وقت میں جب خوراک اور پٹرول پر دی جانے والی چھوٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور انھیں نئے ٹیکس ادا کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔
اٹارنی جنرل کے بدل دیے جانے پر یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ملائیشیا کے عوام کو سچائی کا پتہ چل سکے گا۔
مسٹر محی الدین کو برخاست کیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے نجیب رزاق نے ٹی وی پر کہا کہ اختلاف رائے کا ’اظہار اوپن فورم پر نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ حکومت کی اجتماعی ذمہ داریوں کے اصول کے منافی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ بہت مشکل تھا لیکن مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا تاکہ ایک مضبوط ٹیم پیش رفت کر سکے۔‘
مسٹر محی الدین کی جگہ سابق وزیر داخلہ زاہد حمیدی کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ کابینہ میں کی جانے والی تبدیلیوں میں چار دوسرے وزرا کو بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
اتوار کی شب مسٹر محی الدین نے یوایم این او پارٹی میٹنگ میں ایک ایم بی ڈی فنڈ پر اظہار خیال کیاتھا جس میں مقامی میڈیا بھی شامل تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے مسٹر نجیب پر ایک ایم بی ڈی سے علیحدہ ہو جانے کے لیے زور دیا ہے۔ ملائیشیئن انسائڈر کے بقول انھوں نے کہا: ’میں نے انھیں ایک ایم بی ڈی پر اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا لیکن وہ ہماری بات سننا نہیں چاہتے۔۔۔ میری نیت غلط نہیں ہے، میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘
انھوں نے مسٹر نجیب کو اس معاملے پر بذات خود وضاحت کرنے کے لیے بھی کہا۔
دا سٹار اخبار کے مطابق انھوں نے کہا: ’وزرا اس کی مناسب طور پر وضاحت نہیں کر سکتے کیونکہ ہم خود ہی حقائق سے باخبر نہیں۔ اس لیے وزیر اعظم کے علاوہ کون اصلی بات بتائے گا، صحیح یا غلط۔‘
ایک ایم بی ڈی کا کہنا ہے کہ اس نے مسٹر نجیب کو کبھی پیسہ نہیں دیا ہے اور یہ کہ الزامات ناقابل قبول ہیں۔
جبکہ مسٹر نجیب کا کہنا ہے کہ وہ ’سیاسی سبوتاژ‘ کا شکار ہوئے ہیں اور انھوں نے بااثر سابق وزیراعظم مہاتیر محمد پر انھیں ہٹانے کی مہم کو چلانے کا الزام لگایا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم نجیب نے ایک ایم بی ڈی انوسٹمنٹ فنڈ یعنی سرمایہ کاری فنڈ کی ابتدا سنہ 2009 میں کی تھی تاکہ کوالالمپور کو مالی مرکز بنائیں اور ملک کی معیشت کو فروغ دیں۔
گذشتہ سال اس پر اس وقت توجہ مبذول ہوئی جب اس کی ادائيگی میں کمی آنے لگی اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ 11 ارب ڈالر کے قرضے میں ہے۔







