یمنی جلاوطن حکومت کے حکام کی عدن آمد

یمنی حکام کا دورۂ عدن منگل کو یمنی حکومت کے حامی جنگجوؤں کی جانب سے عدن سے حوثی باغیوں کو باہر نکالے جانے کے بعد ممکن ہوا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیمنی حکام کا دورۂ عدن منگل کو یمنی حکومت کے حامی جنگجوؤں کی جانب سے عدن سے حوثی باغیوں کو باہر نکالے جانے کے بعد ممکن ہوا

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملک کی جلاوطن حکومت کے کئی وزرا اور خفیہ اداروں کے حکام ملک کے جنوبی شہر عدن پہنچ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ حکام ہیلی کاپٹر کے ذریعے جمعرات کو ساحلی شہر پہنچے۔

تین ماہ سے جاری جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ جلاوطن حکومت کے حکام نے عدن کا رخ کیا ہے۔

یمن کی جلا وطن حکومت کے ارکان مارچ میں صدر عبدالربوہ ہادی منصور کے ملک سے فرار کے بعد سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

ان حکام کا دورۂ عدن منگل کو یمنی حکومت کے حامی جنگجوؤں کی جانب سے عدن سے حوثی باغیوں کو باہر نکالے جانے کے بعد ممکن ہوا ہے۔

اس کارروائی میں حکومت کی حامی ملیشیا کو سعودی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں کی مدد بھی حاصل تھی۔

عدن میں اس دوران شدید لڑائی ہوئی ہے اور اتحادی فوج نے پڑوسی شہر معلی میں بھی ہوائی حملے کیے۔

رواں برس مارچ سے ہی عدن جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرواں برس مارچ سے ہی عدن جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے

اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے بعد یمنی حکومت کے حامی جنگجوؤں نے معلی پر قبضہ کر لیا اور حوثی باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔

عدن شہر سے پسپائی کو باغیوں کے لیے اک بڑے جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سال مارچ سے ہی عدن جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے۔

یمن میں صدر ہادی کے اقتدار کو پھر سے بحال کروانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج حوثي باغیوں اور ان کے حامی جنگجوؤں پر 26 مارچ سے فضائی حملے کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے یمن میں جمعے سے انسانی بنیاد پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن کچھ دیر بعد جنگ بندی ٹوٹ گئی اور فریقین میں شدید لڑائی شروع ہو گئی۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ پندرہ ہفتے سے یمن میں جاری لڑائی میں کم سے کم 3200 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں آدھے سے زیادہ عام شہری ہیں.

اس کے علاوہ دس لاکھ سے بھی زیادہ لوگ یمن چھوڑ چکے ہیں اور یمن کی دو تہائی آبادی کو اس وقت انسانی مدد کی سخت ضرورت ہے۔