55 دن بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدی کی رہائی

قادر عدنان کی رہائی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی شرط پر عمل میں آئی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنقادر عدنان کی رہائی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی شرط پر عمل میں آئی ہے

اسرائیلی حکام نے ’انتظامی تحویل‘ میں لیے گئے فلسطینی قیدی خضر عدنان کو رہا کر دیا ہے۔

وہ 55 دن تک بھوک ہڑتال پر رہے تھے۔

الجزیرہ نیوز کے مطابق ان کی رہائی اتوار کو عمل میں لائی گئی۔

بھوک ہڑتال کے باعث بیمار ہونےکے بعد ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے والے خضر عدنان کی رہائی پر رضامندی اس شرط پر دی گئی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکام نے 29 جون کو کہا تھا کہ فلسطینی قیدی، 37 سالہ خضر عدنان رفتہ رفتہ کھانا پینا شروع کر دیں گے اور انھیں دو ہفتوں میں رہا کر دیا جائے گا۔

اسرائیلی حکام نے تین اسرائیلی نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لیا تھا جن میں خضر عدنان بھی شامل ہیں۔ تاہم حکام نے ان پر کوئی مقدمہ چلائے بغیر انھیں اپنی تحویل میں رکھا اور مجموعی طور پر یہ ان کی نویں گرفتاری تھی۔

عدنان قادر کو مسلمان جہادی گروہ سے وابستگی کا الزام ہے وہ نو بار گرفتار ہو چکے ہیں اور ایک سال کی قید کاٹ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعدنان قادر کو مسلمان جہادی گروہ سے وابستگی کا الزام ہے وہ نو بار گرفتار ہو چکے ہیں اور ایک سال کی قید کاٹ چکے ہیں

اسرائیلی حکام نے موقف اختیار کر رکھا تھا کہ خضر عدنان کو ’انتظامی حراست‘ میں رکھا گیا ہے اور اس کے تحت اسرائیل کسی بھی مشتبہ فلسطینی کو کسی مقدمے کے بغیر غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھ سکتا ہے۔

اسرائیل کا یہ بھی الزام ہے کہ خضر عدنان اسلامی جہادگروپ کے رکن ہیں جو کہ ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ تاہم ان کے اہلِ خانہ اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ خضر عدنان کو اسرائیل نے اس سے قبل کئی بار گرفتار کیا ہے اور آخری بار انھیں گذشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

’انتظامی حراست‘ کے تحت اسرائیل کسی مشتبہ فلسطینی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے حراست میں رکھ سکتا ہے البتہ ہر چھ ماہ بعد اس کی حراست میں توسیع کیے جانے کی بات اس میں شامل ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس غیر قانونی حراست پر اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اپنی گرفتاری کے بعد جب خضر عدنان نے 55 روز تک بھوک ہڑتال کی تو اس عرصے میں اسرائیلی حکومت نے ایک قانون بنایا جس کے تحت جیل کا عملہ بھوک ہڑتال کرنے والوں کو زبردستی کھانا کھلائیں۔