’داڑھی اور پگڑی سے متعلق جنگ جیت لی‘

امریکہ کے ڈزنی ورلڈ کے ایک سکھ ڈاکیے نے داڑھی اور پگڑی سے متعلق قانونی جنگ جیت لی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی داڑھی اور پگڑی کی وجہ سے انھیں صارفین سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ صارفین انھیں داڑھی اور پگڑی کے ساتھ نہ دیکھ سکیں۔
گردِت سنگھ کے وکلا کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو فلوریڈا کے تھیم پارک میں عملے اور صارفین سے الگ رکھا گیا تھا کیونکہ انھوں نے ’ظاہری حلیے کی پالیسی‘ کی خلاف ورزی کی تھی۔
ڈزنی کا اب کہنا ہے کہ گردت سنگھ تمام راستوں پر تمام صارفین کو ترسیل کا کام کر سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر تعصب نہیں کرتی۔
گردت سنگھ سنہ 2008 سے اس تھیم پارک میں کام کر رہے تھے لیکن وہ ہمیشہ یہاں آنے والوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’بے حد شکرگزار‘ ہیں کہ ڈزنی نے اپنا رویہ تبدیل کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’مجھے امید ہے کہ پالیسی کی اس تبدیلی سے سکھ مذہب اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ڈزنی میں اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کرنے کے دروازے کھل جائیں گے۔‘
’میری پگڑی اور داڑھی میرے عقیدے کے ساتھ میری مستقل وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سب کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ ہم سب برابر ہیں۔ یہ صرف سکھ مذہب کی اقدار نہیں بلکہ امریکی اقدار ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مئی میں امریکن سول لبرٹیز یونین اور سکھ مذہب کی وکالت کرنے والی تنظیم دی سکھ کولیشن کے وکلا نے ڈزنی کو گردت سنگھ کے ساتھ روا رکھے گئے برتاؤ سے متعلق خط لکھا تھا۔
اس خط میں ان کا کہنا تھا کہ گردت سنگھ کو صارفین سے دور ترسیل کے صرف ایک روٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ دیگر عملے کو مختلف ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں جہاں وہ صارفین کو دکھائی بھی دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ’خاص طور پر ان کی نسل اور مذہبی ظاہری حالت کی وجہ سے ہے،‘ اور یہ شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ڈزنی نے انھیں تمام روٹس پر بحال کر دیا اور کہا کہ ’وہ تنوع پر یقین رکھتے ہیں اور مذہب کی بنیاد پر تعصب کے خلاف ہیں۔‘
گردت سنگھ فلوریڈا کے اس پارک میں اپنی ملازمت جاری رکھے ہوئے ہیں، پارک کے مختلف حصوں میں پوسٹس کی ترسیل کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ اس کمپنی میں کام کرکے خوش ہیں۔
سنگھ کولیشن سے وابستہ وکیل گرجوت کور کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے سنہ 2005 میں پہلی مرتبہ ملازمت کے لیے درخواست دی تھی اور انھیں بتایا گیا کہ انھیں کار پارک میں گاڑیاں صاف کرنے یا کچن میں کام دیا جائے گا۔
’انٹرویو لینے والے نے اس جانب اشارہ کیا کہ وہ مہمانوں کے سامنے کام نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی داڑھی اور پگڑی ہے۔‘
گردت سنگھ نے یہ ملازمت نہیں کی اور سنہ 2008 میں ابتدائی طور پر دربان کی ملازمت کے لیے دوبارہ درخواست دی۔
گرجوت کور کے مطابق میزبانی کے شعبے میں تجربہ حاصل ہونے کے باوجود ان کے موکل کو اس ملازمت سے انکار کر دیا گیا ’کیونکہ ان کا لباس ملازمت کے لیے درکار ضروری ’لباس‘ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ گردت سنگھ کے خیال میں ’لباس‘ سے مراد ان کی پگڑی اور داڑھی تھا۔







