مشکل امور پر مذاکرات اس مقام پر نہیں جہاں ہونے چاہیے تھے: جان کیری

ابھی تک کچھ بھی واضح نہیں ہے: جواد ظریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنابھی تک کچھ بھی واضح نہیں ہے: جواد ظریف

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ منگل کی ڈیڈ لائن تک حتمی جوہری سمجھوتے پر پہنچنا ہے تو مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں فریق بہت سے مشکل امور پر اُس مقام پر نہیں پہنچے ہیں جہاں انھیں ہونا چاہیے تھا۔

ادھر ویانا میں جاری مذاکرات میں شریک اُن کے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ بھی واضح نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جن میں گذشتہ منگل کی ڈیڈلائن تک اتفاق رائے نہ ہونے پر ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی تھی۔

گذشتہ روز ویانا میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ سمجھوتہ اب بھی ممکن ہے۔ انھوں نے کہا: ’اگر آئندہ دو روز میں تیزی کے ساتھ سخت فیصلے کر لیے جائیں تو اسی ہفتے سمجھوتہ ہو سکتا ہے کیونکہ پچھلے کچھ روز میں بہت پیش رفت ہو چکی ہے۔‘

لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اہم ترین امور پر کسی سمجھوتے کی خواہش بالکل ہی دکھائی نہیں دیتی اور رویہ غیرلچکدار رہتا ہے تو امریکہ بغیر کسی سمجھوتے کے ہی اٹھ جانے پر تیار ہے۔

اس کے مقابل ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ اختلافات ابھی موجود ہیں لیکن فریقین سخت محنت کر رہے ہیں اور سمجھوتے کے بہت قریب ہیں۔

مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین امریکہ ، روس ، چین ، فرانس، اور برطانیہ کے ساتھ جرمنی ایرانی جوہری پروگرام کو اِس حد محدود کرنے کے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے مذاکرات کر رہے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول روکنا یقینی بنایا جا سکے۔

ایران صرف اُسی صورت میں جوہری پروگرام ختم کرے گا جب اُس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی: آیت اللہ خامنہ ای

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران صرف اُسی صورت میں جوہری پروگرام ختم کرے گا جب اُس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی: آیت اللہ خامنہ ای

ایران ہمیشہ سے یہ اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور توانائی کے حصول کے لیے ہے۔ وہ کسی بھی سمجھوتے کے عوض خود پر عائد اُن پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے جن کی وجہ سے اُس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابھی تک دونوں فریق اِس پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ ایران کو کتنی جوہری سرگرمیوں کی اجازت دی جائے اور اُس پر عائد پابندیاں کب اٹھائی جائیں۔

جمعے کے روز جواد ظریف نے کہا تھا کہ اُن کا ملک کسی سمجھوتے کے لیے تیار ہے اور مذاکرات کار کسی پائیدار حل کے اتنا قریب کبھی نہیں پہنچے۔ لیکن ساتھ ہی ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے مذاکرات میں دھونس اور دباؤ کے ہتھکنڈے ختم کرنے پر بھی زور دیا تھا۔

ایران کے تمام ریاستی امور میں رہبرِ اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای کو حتمی فیصلے کا اختیار حاصل ہے۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے مغربی ملکوں کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا ایران صرف اُسی صورت میں اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے گا جب اُس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے سے پہلے ویانا میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو امریکی کانگریس کی منظوری کے لیے بھی پیش کیا جائے گا۔