’ایران جوہری معاہدہ حتمی ڈیل کے اتنا قریب کبھی نہیں تھا‘

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں سے حتمی معاہدے کے لیے 30 جون کی ڈیڈ لائن میں سات جولائی تک توسیع کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں سے حتمی معاہدے کے لیے 30 جون کی ڈیڈ لائن میں سات جولائی تک توسیع کی گئی تھی

ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے جامع معاہدے کے جتنا قریب اب ہے ماضی میں کبھی نہیں تھا۔

انھوں نے یہ بات جمعے کو یو ٹیوب پر اپنے ایک ویڈیو میں کہی۔

جاوید ظریف نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمارے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی راہیں کھولے گا جن میں مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے کے لیے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چند ’سخت معاملات‘ پر بات چیت اب بھی باقی ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ویانا میں جاری مذاکرات میں کوشش کی جا رہی ہے کہ انھیں سات جولائی کی ڈیڈ لائن تک مکمل کر لیا جائے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے ویڈو پیغام میں جوہری مذاکرات میں’جبر اور دباؤ‘ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا ’ایران معاہدے کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات کار کبھی بھی حتمی نتیجے کے قریب نہیں رہے۔‘

جاوید ظریف نے کہا کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے کے وعدے بھی کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے اور ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس خطرے سے بچا ہوا ہو۔

تاہم ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے بی بی سی کی باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اب بھی یہی سوال منڈلا رہا ہے کہ کیا ڈیل حقیت میں ہو بھی پائے گی؟

’مشکل معاملہ‘

جان کیری نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ چند اہم نکات پر بات چیت ہونا باقی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجان کیری نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ چند اہم نکات پر بات چیت ہونا باقی ہے۔

نام نہاد گروہ پی فائیو پلس ون جس میں امریکہ، برطانیہ، چین، روس، فرانس اور جرمنی شامل ہیں چاہتے ہیں کہ ایران اپنی جوہری کارروائیوں کو ختم کرے اور اس بات کا یقین دلائے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپریل میں ایران کے ساتھ ہونے والے عبوری معاہدے میں موجود عالمی طاقتوں کے بنیادی مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔ تاہم اس کے فوری بعد امریکہ نے خبرادار کیا کہ جامع معاہدے کی بنیاد اپریل میں سوئٹزر لینڈ میں ہونے والا عبوری معاہدہ ہی ہوگا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے جون میں ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے قبل اپنے خطاب میں کہا کہ ایران صرف اسی صورت میں اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرے گا جب تک اُس پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں۔

انھوں نے آئندہ دس سالوں تک جوہری پروگرام میں تحقیق اور ترقی روکنے اور عسکری علاقوں کے معائنے کی شرائط کو بھی مسترد کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایران کے ساتھ جوہریمعاہدے کی ڈیڈ لائن 30 جون تھی جسے سات جولائی تک توسیع دی گئی۔

امریکی صدر براک اوباما نے نو جولائی تک اس معاہدے کی حتمی تفصیلات امریکی کانگرس میں جمع کروانی ہیں۔لیکن اگر یہ تفصیلات نو جولائی کے بعد جمع کروائی گئیں تو ان کا جائزہ لینے وقت کی میعاد 30 دن سے کے بجائے 60 دن ہو جائے گی۔