’انھیں ہر صورت متفق ہونا ہوگا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد معاہدے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونے والی شدید پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔
بی بی سی فارسی نے ایران کے عام شہریوں سے پوچھا ہے کہ ان کے خیال میں ان مذاکرات میں کیا فیصلہ ہوگا۔
عباس، تہران
جوہری مذاکرات ہر ایرانی کی زندگی پر اثر انداز ہوں گے کیونکہ پابندیوں کی وجہ سے افراط زر ہے۔ بہت سے لوگ اب اس طرح سے زندگی نہیں گزار پا رہے ہیں جیسے وہ گزارتے آئے ہیں۔
ایرانی صدر روحانی کی موجودگی میں اگر وہ کسی معاہدے کے قریب نہیں پہنچتے ہیں تو دونوں فریق مستقبل میں مشکلات کا سامنا کریں گے۔
اومد، تہران
تیل اور بینکنگ کے شعبے میں لگنی والی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
میرے پاس تین فیکٹریاں ہیں اور آٹھ سال قبل وہ بلکل صحیح کام کر رہی تھیں لیکن اب وہ تینوں فیکٹریاں بند ہیں۔
تقریباً 400 کارکن، تکنیکی عملہ اور انجینیئروں نے اپنی نوکریاں کھو دیں ہیں۔ مجھ جیسے بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس صنعتی شہروں میں مینوفیکچرنگ کمپنیاں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج کل ہمارے صنعتی شہروں سے زیادہ کام قبرستانوں میں ہو رہا ہے۔
ابراہیم، شیراز
میں ان مذاکرات کے آخری دور کے ایک ایک منٹ کو توجہ کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو آپ جان کیری کے چہرے پر پریشانی دیکھ سکتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر اوباما اس مسلہ کے حل کے لیے کسی راستے کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم مضبوط لابی دوسری طرف ہے۔ میرے خیال میں امریکی صدر معاہدہ کرنے کے لیے پر امید ہیں اور وہ ایسا کر لیں گے۔
علی، قزوین
میں پرامید نہیں ہوں۔ جیسا کے ہمارے راہبر کا کہنا ہے کے ہم امریکہ، برطانیہ اور عام طور پر مغرب پر بھروسہ نہیں کرتے، لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران میں کچھ لوگوں نے ان پر بھروسہ کیا ہے اور ان کے خیال میں مذاکرات کے ذریعے چیزیں آگے بڑھ سکتی ہیں اور راہبر اعلیٰ بھی اس پر متفق ہیں۔
یہ ہو رہا ہے لیکن میرے ذاتی خیال میں یہ سارا عمل ناکام ہو جائے گا۔ صرف ایک سوال ہے کہ کب ہوگا۔
شکراللہ، محمود آباد

،تصویر کا ذریعہAFP
میرے خیال میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ ایران میں بہت سی جنگجو تنظیمیں موجود ہیں جن کی جڑیں کافی گہری ہیں مثال کے طور پر باسج اور خاص طور پر وہ جو رہبر اعلیٰ کے دفتر سے منسلک ہیں۔ایسی تنظیمیں یہ معاہدہ کبھی نہیں ہونے دیں گی اور لوگوں پر دباؤ بڑھتا رہے گا۔
میں ایک کسان ہوں لیکن میں اپنے ہی اگائے ہوئے چاول نہیں بیچ سکتا، یہ ہم لوگوں کے ساتھ ٹھیک نہیں ہو رہا۔
فرح ناز، شمالی ایران
میں ایک استاد ہوں، میں بڑی دلچسپی سے ان مذاکرات کو دیکھ رہا ہوں لیکن کبھی کبھار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کھنچتے جا رہے ہیں۔
بہر حال میں نہیں سمجھتا کہ ہم کسی بڑی تبدیلی کو دیکھیں گے۔ تبدیلی آنے میں وقت لگے گا، یہ معاہدہ ہونے کے اگلے ہی دن نہیں آئے گی۔







