اصل ’ڈیڈ لائن‘ کب پوری ہوگی؟

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, لیس ڈوسٹ
    • عہدہ, نامہ نگار بین الاقوامی امور، بی بی سی

کیا آسٹریا کا شہر ویانا ہی وہ مقام ثابت ہوگا جہاں ایرانی کے جوہری پروگرام پر 12 برس سے جاری تنازعہ ختم ہوگا۔

’ہم ابھی وہاں تک نہیں پہنچے‘

یہ ہے وہ جواب جو مجھے ایک مغربی سفارتکار نے دیا۔

ان کے بقول ’ ہاں ہم اس نکتے پر ضرور پہنچ گئے ہیں جہاں اب تمام وزرائے خارجہ کو ایک میز پر بیٹھ کر کچھ فیصلے کرنا ہوں گے۔‘

دنیا کی چھ بڑی طاقتوں میں سے زیادہ تر کے وزرائے خارجہ جمعرات کو واپس ویانا پہنچ چکے ہیں۔

’نیشنل ایرانی امریکی کونسل‘ کے ڈائریکٹر رضا مراشی کہتے ہیں کہ ’ایران اور چھ طاقتوں کے درمیان مذاکرات اب ماہرین کی سطح سے وزراء کی سطح پر آ گئے ہیں اور اب وزراء کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ اس دستاویز کی جُزیات کی زبان پر متفق ہو جائیں۔‘ رضا مراشی کے خیال میں کئی برسوں سے جاری یہ مذاکرات بہرحال آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

ان کے بقول اب مذاکرات کے ’آخری جھٹکے کا آغاز ہو چکا ہے۔‘

’ہاتھ کی پہنچ میں‘

ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور بڑے بڑے سیاسی پنڈت ویانا کے تاریخی محل کے قریب واقع ہوٹل میں جمع ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنذرائع ابلاغ کے نمائندے اور بڑے بڑے سیاسی پنڈت ویانا کے تاریخی محل کے قریب واقع ہوٹل میں جمع ہو چکے ہیں

ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور بڑے بڑے سیاسی پنڈت ویانا کے تاریخی محل کے قریب واقع ہوٹل میں جمع ہو چکے ہیں جہاں یہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

ایرانی اور امریکی سفارتکاروں کے ساتھ وقت گزارنے والے ایک مبصر کا کہنا ہے کہ ’اب ہر کسی کو احساس ہے کہ یہ کام ختم کرنا ہے۔‘

لیکن اس کے باوجود یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ کوئی بھی فریق کسی وقت مذاکرات کی میز چھوڑ کر جا سکتا ہے یا کسی ایک یا دوسرے مسئلے پر بات پھنس سکتی ہے جس سے آخری معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

مثلاً ایران کے حساس جوہری پروگرام پر دس سال کے لیے کام روک دینے کے معاملے اور ایران پر لگی شید اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کی حتمی تاریخ پر بات بگڑ سکتی ہے۔

ایک مغربی سفاررتکار نے مجھ سے کہا کہ ’ جی ہاں معاہدہ ہماری پہنچ میں ہے، لیکن یہ تو ایک عرصے سے ہماری پہنچ میں تھا۔‘

ایران پر عائد پابندیوں نے عام لوگوں کو بری طرح متاثر کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران پر عائد پابندیوں نے عام لوگوں کو بری طرح متاثر کیا ہے

ہمارے عہد کے ایک نہایت اہم سکیورٹی چیلنج کے بارے میں جاری ان طویل مذاکرات میں شریک اہلکاروں کا کہنا ہے انھیں نہایت پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے کیونکہ 60 صفحات کی اس دستاویز اور اس سے منسلک کئی دیگر دستاویزات میں جن تکنیکی اور سیاسی امور کا احاطہ کیا گیا ہے ان میں سے ہر ایک پر تمام فریقوں کو متفق کرانا آسان کام نہیں۔ یہ دستاویزات محض سائنسی نوعیت کی نہیں بلکہ بہت حساس بھی ہیں۔

ویانا میں ہونے والے مذاکرات کی بنیاد معاہدے کا وہ ڈھانچہ ہے جو ماہرین نے اپریل میں حتمی تایخ کے آخری روز رات گئے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد تیار کیا تھا۔ اگرچہ یہ ڈھانچہ ایک نہایت اہم دستاویز تھا لیکن اس کے باجود اس میں کئی ایک تفصیلات ایسی تھیں جن کی تشریح پر ابھی اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔

’بُلٹ پروف معاہدہ‘

ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اس معاہدے کا ایک اہم جزو ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اس معاہدے کا ایک اہم جزو ہے

ہم جسے مذاکرات کا آخری مرحلہ کہہ رہے ہیں اس میں بھی بعض ایسے نکات موجود ہیں جن پر دونوں فریقوں کے درمیان پائی جانے والی عدم اعتمادی اور غلط فہمیوں کے بادل کسی وقت بھی چھا سکتے ہیں۔ یہ محض کسی تصفیے پر پہنچنے کی بات نہیں بلکہ ایک ایسے معاہدے پر متفق ہونے کی بات ہے جس کی پاسداری تمام فریق کریں۔

سینیئر ایرانی تـجزیہ کار علی واعظ کے بقول ’اس معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ہوا بھی داخل نہ ہو سکے، پانی بھی نہ جائے اور نہ ہی کوئی گولی اس میں سے گزر سکے۔‘

اسی لیے جوں جوں مذاکرات آخری لمحات میں داخل ہو رہے ہیں دونوں فریقوں کی ذمہ داریاں، کس وقت کیا ہوگا اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان مذاکرات میں طے پانے والے معاملات کی تصدیق کیسے ہو گی، یہ تمام ایسے امور ہیں جن پر بڑے شدو مد کے ساتھ بات ہو رہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اس معاہدے کے حامی اس پر بہت خوش ہوں گے وہاں امریکہ، ایران، خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں کئی حلقے ناخوش بھی ہوں گے۔

حتمی تاریخ

 امید ہے کہ صدر اوباما اس معاہدے کا مسودہ 9 جولائی تک امریکی کانگریس کو پیش کر دیں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن امید ہے کہ صدر اوباما اس معاہدے کا مسودہ 9 جولائی تک امریکی کانگریس کو پیش کر دیں گے

جوہری معاہدے کی حتمی تاریخ خود اس میں شامل فریقوں نے طے کی تھی۔ جوں جوں یہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں ماہرین ایک ایسی تاریخ کی بات کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں واقعی آخری ’ڈیڈ لائین‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ صدر اوباما اس معاہدے کا مسودہ 9 جولائی تک امریکی کانگریس کو پیش کر دیں گے تاکہ وہ اگلے تین دنوں میں اس کا جائزہ لے سکے۔

اگر یہ کام اس تاریخ تک نہیں ہو پاتا تو کانگریس میں معاہدے پر بحث اگلے 60 دنوں تک ملتوی ہو سکتی ہے جس سے کانگریس میں معاہدے کے مخالف ارکان اور دیگر ممالک کو اس میں مین میخ نکالنے کے لیے خاصا وقت مل جائے گا۔

جواد ظریف کہتے ہیں کہ ’میں یہاں حتمی معاہدہ لینے کے لیے آیا ہوں اور میرا خیال ہے کہ ہم یہ حاصل کر سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب جان کیری کا کہنا تھا کہ ’ ہمارے ذہن میں بھی ایک ڈیڈ لائن ہے۔‘