سات جولائی کے نہ نظر آنے والے متاثرین

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ایما ایلز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
7 جولائی کے لندن دھماکوں میں بمباروں نے 52 افراد کو ہلاک اور کئی درجنوں کو زخمی کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دھماکوں سے متاثر ہونے والے سینکڑوں لوگ ایسے بھی تھے جو وہاں سے تو بچ کر نکل گئے لیکن ان پر اس واقعے کے جذباتی اثرات ابھی تک باقی ہیں۔
شانی ریان کہتی ہیں کہ ’وہ سکینڈ کے ایک حصے میں کیا جانے والا فیصلہ تھا جس نے میری جان بچائی۔‘
10 برس پہلے اس حبس والی صبح کو وہ ایک 20 سالہ ڈانس کی سٹوڈنٹ تھیں جو پکڈلی لائن پر اپنے فلیٹ میٹ لیون کے ہمراہ کالج جا رہی تھیں۔
وہ روزانہ کی طرح سب سے پہلے والے ڈبے میں تھے جو مسافروں سے بھرا پڑا تھا۔ جب ٹرین کنگز کراس سٹیشن پر رکی تو وہ اپنے دوست کو الوداع کہنے کے لیے ڈبے سے باہر نکلیں۔
کچھ گز دور بمبار جرمین لنڈسے بھی اسی گاڑی میں چڑھ رہا تھا۔
جیسے ہی دروازے کے بند ہونے والی بیپ کی آواز آئی تو انھوں نے مڑ کر دیکھا مگر ان کی جگہ پر ہو چکی تھی۔ وہ فوراً دوسرے ڈبے میں چڑھیں اور بند ہوتے ہوئے دروازے کے ساتھ چپک کر کھڑی ہو گئیں۔
کچھ لمحوں کے بعد جیسے ہی ٹرین اندھیری سرنگ میں داخل ہوئی لنڈسے نے دھماکہ کردیا۔
اس کے بعد کیا ہوا شانی نے کبھی کسی سے اس کے متعلق کھل کر بات نہیں کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مجھے صرف ایک بڑا دھماکہ یاد ہے۔ میرے کانوں کی درد۔ ٹرین ایک چیخ کے ساتھ رک گئی اور ایک عورت میرے اوپر گر گئی۔ ایسے تھا کہ جیسے وقت تھم گیا ہو۔ وہاں ایک پراسرار خاموشی تھی لیکن بلند سفیدی جیسی آواز بھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کے بعد ہوش آنا شروع ہوا۔ دھواں نکل رہا تھا۔ شدید زخمی لوگوں کی آوازوں کا شور اور مدد کے لیے چیخیں۔ میں چلا رہی تھی کہ ’ہم جل رہے ہیں، رو رہی تھی اور پریشان تھی۔ جو عورت مجھ پر گری تھی اس کا نام پرسیلا تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ تم ٹھیک ہو، تم ٹھیک ہو۔‘
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، کچھ مسافروں نے اس بات پر بحث کرنا شروع کی کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ کچھ مردوں نے کھڑکیوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ کچھ نے کہا کہ ہمیں مدد کا انتظار کرنا چاہیے۔
لیکن وہ انتظار بہت لمبا تھا۔ اگلے ڈبے کے پیچھے پھنسے ہوئے انھوں نے اندھیرے میں ایک گھنٹہ گزارا۔ اس کے بعد ہنگامی سروسز ان تک پہنچیں۔
’لوگ ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے۔ یک دم سبھی انجان لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا اور اس وقت بہت خاموشی چھا گئی۔
’اس وقت آپ اگلے دروازے سے بہت خوفناک آوازیں سنتے۔ میں کھلی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی لیکن میں ان کی مدد کو نہیں پہنچ پائی۔‘
’جب آپ وہاں ہوں اور کسی کی درد کی آواز سن سکتے ہوں اور پھر ریں ریں اچانک بند ہو جائے، تو یہ فوری طور پر احساسِ جرم ہے کہ یہ وہ ہیں، تم نہیں ہو۔‘
اگلے ڈبے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے جو کہ اس دن لندن میں ہونے والے مربوط بم دھماکوں میں سب سے خطرناک حملہ تھا۔
آخر کار مدد پہنچ گئی۔ بچنے والوں کو اس ڈبے میں سے نکالا گیا اور انھیں سرنگ میں بہت دور تک پیدل چلنا پڑا، ادھر ادھر پرانا ملبہ اور جسموں کے حصے پڑے ہوئے تھے۔ لوگ ابھی تک حیران تھے کہ آخر ہوا کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جب شانی کنگز کراس سٹیشن پر پہنچیں تو ایک طبی عملے کے ایک رکن نے انھیں ایمبولینس کی طرف جانے کے لیے اشارہ کیا۔
’میں کہہ رہی تھی کہ میں ٹھیک ہوں، میں ٹھیک ہوں۔ میں نے ایمبولنس کی طرف دیکھا اور وہاں ہر طرف خون اور چوٹوں سے بھرے لوگ پڑے تھے۔‘
’میں نے جلدی سے اپنی بازو چھڑائی اور اپنے کالج تک بھاگتی چلی گئی۔‘
’میں لیون کی صبح والی بیلٹ کی کلاس میں گئی اور اسے کہا کہ ’شاید میں ٹرین کو حادثہ پیش آیا ہے۔‘
’سب رک گئے اور میری طرف دیکھنے لگے اور لیون میری طرف بھاگتا ہوا آیا۔ جب میں نے بعد میں شیشے میں اپنے آپ کو دیکھا تو مجھے پتہ چلا کہ میں ساری دھویں اور مٹی میں لپٹی ہوئی تھی۔ میری آنکھیں تک سیاہ تھیں۔ میری زبان سیاہ تھی۔‘
پولیس کے اندازے کے مطابق ان دھماکوں سے تقریباً 4000 افراد براہ راست متاثر ہوئے تھے۔
شانی کی طرح ان میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جن کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ ان کے کانوں کے پردوں میں سوراخ ہوئے اور سانس کے مسائل پیدا ہوئے تھے۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد بس وہاں سے نکل گئی کچھ نے تو کپڑوں سے ملبے کے ٹکڑے صاف کیے اور بالکل اسی طرح دفتر چلے گئے جیسے کہ کچھ نہیں ہوا۔
سودھیش داہد بھر پکاڈلی ٹرین میں بمبار سے چھ گز کے فاصلے پر کھڑی تھے۔
انھیں ایک دھماکے دار آواز یاد ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’مجھے لگا کہ میں مر چکا ہوں اور یہ مرنے کے بعد کی زندگی ہے۔ مجھے لگا کہ لوگ پنجے مار رہے ہیں، مدد لینے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک قسم کی آگ کی بھٹی سے اپنے آپ کو نکالنے کی کوش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں تو زندھ ہوں۔‘
سدھیش منہ پر چند زخموں اور کان کے پردے پھٹنے کے علاوہ وہاں سے صحیح و سالم باہر نکلے۔ ان کی قمیض پر لگا ہوا خون بھی انکا نہیں تھا۔ کیونکہ وہ دھماکے والی جگہ سے بھی آگے کھڑے تھے اس لیے ڈرائیور انھیں اور دیگر دوسروں کو 10 منٹ کے اندر اندر اپنے کیبن کے راستے نکال کر لے گیا۔
لیکن اگلے دن امریکہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کانفرنس کال پر موجود تھے۔
’میں چیزیں تو کر رہا تھا لیکن میں کسی چیز میں بھی حصہ نہیں ڈال رہا تھا۔ میں بالکل ایک ’زومبی‘ کی طرح تھا۔‘
اگرچہ ان کے جسمانی زخم بھرنا شروع ہو گئے، ان کے نفسیاتی زخم بد سے بد تر ہوتے چلے گئے۔ ہلکی سے آواز اور بو انھیں سابقہ مناظر کی طرف لے جاتی، برے خواب آتے کہ جیسے وہ دوبارہ ٹرین میں ہیں، بڑھتی ہوئی بے چینی کہ ایسا دوبارہ بھی ہو گا۔
سودھیش نے 2006 سے 2010 تک اپنے آپ کو کام میں مصروف کر لیا لیکن بے چینی کا وہ احساس اس کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا۔
مشرقی لندن میں این ایچ ایس کے انسٹیٹیوٹ آف سائیکو ٹراما کی ماہرِ نفسیات پیٹریشیا ڈی آرڈین کہتی ہیں کہ انھیں 7/7 پر ہی پتہ چل گیا تھا کہ سودھیش اور شانی جیسے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں لوگوں میں مستقبل میں ذہنی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
مشکل یہ تھی کہ کس طرح بچ جانے والوں کو تلاش کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’اس دن دھیان لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی طرف تھا۔ لوگوں کو بتیا گیا تھا کہ جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے نکلیں، کیونکہ کسی کو پتہ نہیں کہ کہیں وہاں اور بھی دھماکے تو نہیں ہوں گے۔‘
’کوئی نام نہیں لیے گئے۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے بہت زیادہ لوگوں کو سکرین کرنا ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم انھیں کھو چکے ہیں۔
دو ہفتوں کے اندر اندر ڈاکٹر آرڈین اور ان کی ٹیم نے لندن میں پانچ سینٹر قائم کیے۔ لیکن بہت کم جی پیز نے مریضوں کو ان کے پاس بھیجا اور کئی ہسپتالوں نے کہا کہ ڈیٹا پروٹیشکن کی وجہ سے وہ مریضوں کے نام نہیں بتا سکتے۔
وہ کہتی ہیں کہ بچ جانے والے اکثر علاج کراتے ہوئے اپنے آپ کو مجرم سمجھتے ہیں۔
احساسِ جرم بچ جانے والوں کا سب سے مضبوط احساس ہوتا ہے، اس بات کا احساس کہ وہ زخمی لوگوں کو چھوڑ کر آ گئے، اور احساسِ جرم کہ وہ تو زندہ بچ گئے جبکہ دیگر ہلاک ہو گئے۔
ڈاکٹر ڈی آرڈین کے مطابق ’کچھ کہتے ہیں کہ مجھے وہاں رکنا چاہیے تھا، مجھے کچھ زیادہ کرنا چاہیے تھا۔‘
ان کی ٹیم نے تقریباً 900 افراد کی نفسیاتی سکریننگ کے لیے شناخت کی ہے۔ جن میں سے تقریباً 600 سکریننگ کروا چکے ہیں اور ان میں سے تقریباً آدھے ذہنی مسائل کا شکار تھے اور انھیں علاج کی اشد ضرورت تھی۔







