فرانس: حملے میں ’ایک شخص کا سرقلم کر دیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس کے شہر لیون کے قریب ایک فیکٹری پر مبینہ اسلامی شدت پسندوں کے ایک حملے میں ایک شخص کا سر قلم کر دیا گیا جبکہ ایک دوسرا شخص زخمی ہوا ہے۔
کچھ اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے۔
ذرائع کے مطابق فضائی مصنوعات بنانے والی اس فیکٹری پر حملے کے دوران کئی چھوٹے دھماکے بھی ہوئے۔ ’ایئر پراڈکٹس‘ نامی یہ کپمنی امریکی ہے۔
فرانس کے صدر اولاند آج بلیجیم کےدارالحکومت برسلز میں ہیں جہاں وہ یورپی یونین کے رکن ممالک کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ لیون حملے کی خبر کے بعد انھوں نے وہ سہ پہر کو واپس فرانس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
روانگی سے قبل ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے صدر اولاند نے تصدیق کی ہے کہ کیمیائی مصنوعات بنانے والی فیکٹری پر حملے میں دو افراد شامل تھے اور انھوں نے اپنی گاڑی فیکٹری کی عمارت میں دے ماری تھی۔
صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کوئی شک نہیں ہے کہ اس حملے کا مقصد فیکٹری کو تباہ کرنا تھا۔ یہ حملہ واضح نشاندھی کرتا ہے کہ یہ دہشتگردی کی کارروائی تھی۔‘
گذشتہ برس کے پیرس حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب کو یاد ہے کہ اس سے قبل ہمارے ملک میں کیا ہو چکا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق مبینہ حملہ آوروں کی تعداد دو تھی اور انھوں نے اسلامی شدت پسند تنظیموں جیسا ایک پرچم بھی اٹھا رکھا تھا جو فیکٹری کے قریب سے ملا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایک فرانسیسی ٹی وی چینل کے مطابق اس مشتبہ شخص کے پاس کوئی شناختی کاغذات نہیں ہیں اور اس نے انسدادِ دہشگردی کے پولیس اہلکاروں سے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ سرقلم کیے جانے والے شخص کے سر پر ٹیڑھے میڑھے الفاظ میں عربی میں کچھ لکھا ہوا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حملے سے سلسلے میں ایک دوسرے مشتبہ شخص کو اس کے گھر سےگرفتار کر لیا گیا۔ مقامی اخبار کے مطابق یہ وہی شخص ہے جسے حملے سے پہلے فیکٹری کے ارد گرد گاڑی میں چکر لگاتے دیکھا گیا تھا۔
اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ ملک کے وزیرِ داخلہ بیرنار کیزی نوو جائے وقوع کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے کے قریب ہوا۔
فرانس کے وزیرِ اعظم مینوئل والز نے لیون شہر کے ارد گرد حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات سخت کر دینے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً چھ ماہ قبل دارالحکومت پیرس اور اس کے نواح میں اسلامی شدت پسندوں کے حملوں میں 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







