اوکیناوا میں تقریب کے دوران جاپانی وزیر اعظم پر طعنے

،تصویر کا ذریعہAFP
جاپان میں ایک تقریب کے دوران امریکی فوجیوں کی اوکیناوا کے جزیرے پر موجودگی سے ناراض جاپانیوں نے اپنا غصہ ملک کے وزیرِ اعظم شِنزو ایبے پر نکالا اور تقریر کے دوران انھیں بار بار ٹوکا اور بولنے نہ دیا۔
اوکیناوا کی لڑائی کو ستر برس مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں مسٹر ایبے پر آوازیں بھی کسی گئیں۔ اوکیناوا کے لوگ اپنے جزیرے پر امریکی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔
اس تقریب میں ایبے کے علاوہ امریکی اہلکار بھی ان ہزار افراد کے ساتھ موجود تھے جو ان دو لاکھ پچاس ہزار افراد کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے جو اوکیناوا کی لڑائی میں مارے گئے تھے۔ یہ لڑائی دوسری عالمی جنگ میں ہوئی تھی اور جاپان کی زمین پر ہونے والی یہ واحد لڑائی تھی۔
جزیرے کے رہائشی اس بات پر ناخوش ہیں کہ انھیں اب بھی امریکیوں کی میزبانی کرنا پڑتی ہے۔
دوسری عالمی جنگ میں اتحادی فوجوں کے خلاف لڑتے ہوئے تین ماہ کے دوران جاپان کے تقریباًً ایک لاکھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اوکیناوا کے ایک لاکھ کے قریب رہائشی بھی اس جنگ میں مارے گئے تھے جبکہ جاپان کے فوجی کمانڈروں نے یہاں کے بہت سے باشندوں کو حکم دیا تھا کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر لیں۔
اوکیناوا کے جزیرے پر ہونے والی لڑائی میں 12000 سے زیادہ امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ جزیرہ جاپان سے تقریباً 340 میل جنوب مغرب میں واقع ہے۔
جاپان کی تاریخ میں کھبی ایسا نہیں ہوا کہ ملک کے وزیرِ اعظم کی اس طرح تضحیک ہوئی ہو۔ لیکن ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کہتے ہیں کہ اوکیناوا کے لوگوں نے جو قربانی دی تھی اس پر جزیرے کے رہنے والوں میں آج بھی بہت تلخی پائی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اوکیناوا کے بہت سے رہنے والے ٹوکیو اور واشنگٹن پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان کے جزیرے کو اب تک شاہی ملکیت سمجھتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ افراد کہتے ہیں کہ امریکہ اور جاپان دونوں جزیرے کے رہائشیوں کی ان خواہشات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ یہاں سے امریکی فوجی اڈے ختم کر دیے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1945 میں اتحادی افواج نے دفاعی نقطۂ نظر سے اہم اس جزیرے کو جاپان کے خلاف حملے کے آغاز کا مقام تصور کیا تھا۔ تاہم اس جزیرے سے اتحادیوں نے حملہ شروع نہیں کیا تھا کیونکہ اگست انیس سو پینتالیس میں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹمی بم گرنے کے بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
1972 تک اوکیناوا پر امریکی فوج کا قبضہ رہا۔ لیکن جاپان کے انتہائی جنوب میں واقع اس جزیرے پر اب بھی 26000 کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں اور ان کے کئی فوجی اڈے بھی یہاں ہیں۔
امریکی فوجی اڈوں کو شہری علاقوں سے نکال کر ساحلی علاقوں میں لے جانے کے ایک منصوبے پر ٹوکیو میں مرکز کے حکام اور اوکیناوا کے اہلکاروں کے درمیان پہلے ہی سے تنازعہ پیدا ہو چکا ہے۔







