جاپانی وزیرِ اعظم کی چھت پر ڈرون

جاپانی حکام ایک چھوٹے ڈرون کے گرد جمع ہو رہے ہیں جو جاپانی وزیرِ اعظم شنزو آبے کے گھر کی چھت پر اتر گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجاپانی حکام ایک چھوٹے ڈرون کے گرد جمع ہو رہے ہیں جو جاپانی وزیرِ اعظم شنزو آبے کے گھر کی چھت پر اتر گیا تھا

جاپان کے وزیرِ اعظم کے گھر کی چھت پر ڈرون ملنے کے بعد حکام نے ٹوکیو کے پارکوں میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جاپان میں میڈیا کے مختلف حصوں نے خبر دی ہے کہ اس واقعے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ دارالحکومت ٹوکیو کے 81 پارکوں میں اب ڈرون لے جانے یا وہاں سے اڑانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اگر کسی نے اس حکم کی خلاف ورزی کی تو اسے 265 برطانوی پاؤنڈ کے مساوی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ فیصلہ اس واقعے کے بعد کیا گیا جب ایک تابکاری مواد سے لیس ڈرون جاپانی وزیرِ اعظم کے گھر کی چھت پر اتر گیا۔

ٹوکیو پولیس کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کے گھر کی چھت پر ڈرون کے اترنے کے بعد ایک شحض نے اپریل کے آخر میں خود کو پولیس کے سامنے پیش کر دیا جسے حراست میں لے لیا گیا۔

یاسوو یاماموٹو جن کی عمر 40 برس ہے، اور وہ دراصل جاپانی حکومت کی جوہری پالیسی پر احتجاج کر رہے تھے۔

خبروں کی ویب سائٹ ’جاپان نیوز‘ کے مطابق ٹوکیو کی میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرون بچوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ خبروں کی اس ویب سائٹ نے حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ وہ لوگوں پر جرمانہ نہیں کرنا چاہتے لیکن انھوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ڈرون سے متعلق حکم کی تعمیل کریں۔